شمشال بے مثال کیوں ہے؟
تزئین حسن
پاکستان کا دور افتادہ اور دشوار گزار ترین خطہ جس نے بہترین کوہ پیماؤں کے ساتھ ساتھ ہزاروں کلومیٹر کا رقبہ بھی ملک میں شامل کروایا.
![]() |
| بشکریہ افضل کریم |
caption : ماؤنٹ ایورسٹ تک پہنچنے والی پاکستان کی پہلی خاتون ثمینہ بیگ اور پاکستان کی پہلی کوہ پیما خاتون فرزانہ جبیں کا تعلق بھی شمشال سے ہے
بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہو گا کہ برطانیہ کی تاریخ کے معروف ترین وزیراعظم ونسٹن چرچل کی پہلی عسکری پوسٹنگ موجودہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہوئی. یہیں قیام کے دوران چرچل نے اپنی پہلی کتاب مالا کنڈ فیلڈ فورس تصنیف کی جو اصل میں انکی ڈائری کی اوراق پر مشتمل تھی. ہنزہ کے بارے میں چرچل سے یہ بیان منسوب کیا جاتا ہے کہ پورے یوروپین پہاڑی سلسلے ایلپس میں 6000 میٹر سے بلند اتنی چوٹیاں نہیں جتنی ہنزہ کے چھوٹے سے علاقے میں موجود ہیں. آج ہم آپکو چین کی سرحد سے متصل ہنزہ کے سب سے بلند اور دور افتادہ علاقے شمشال لیے چلتے ہیں جسے قدرت نے سات ہزار میٹر سے بلند نو برف پوش چوٹیوں، بیشمار گلیشیرز اور ان گنت حسین پہاڑی دروں سے نوازا ہے. مگر اس خطے کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں 2003 تک سڑک نہیں پہنچی تھی اور یہاں کے مقامی باشندوں کو قریب ترین قصبے یعنی پھسو پہنچنے کے لئے انتہائی دشوار گزار اور پر خطر علاقے میں تین دن کا سفر اکثر اپنی کمر پر چالیس چالیس کلو سامان لاد کر کرنا پڑتا تھا. مگر یہ خطہ اور اسکے باشندے بہت سی وجوہات کی بنا پر بے مثال کہلانے کے لائق ہیں.
یہاں کے لوگوں نے محدود وسائل کے باوجود ایسے کارنامے انجام دیئے ہیں کہ ہر پاکستانی کو ان پر فخر ہونا چاہئے. ماؤنٹ ایورسٹ تک پہنچنے والی پاکستان کی پہلی خاتون ثمینہ بیگ کا تعلق بھی شمشال سے ہے اور پاکستان کی پہلی کوہ پیما خاتون فرزانہ جبیں جنہوں نے ثمینہ بیگ سے بھی سالوں پہلے ایک 6050 میٹر اونچی چوٹی پھسو پیک تسخیر کی کا تعلق بھی یہیں سے ہے. دنیا کی دوسری بڑی چوٹی K2 کی تسخیر کرنے والے چھ پاکستانیوں میں سے تین کا تعلق شمشال سے ہے جن میں سے ایک افضل الی نے K2 کو دو مرتبہ سر کیا.
شمشال ہنزہ کی سب سے بلند وادی ہے جو سطح سمندر سے تین ہزار میٹر بلند ہے. یہاں کا رقبہ تقریبا ً 3800 مربع کلومیٹر ہے یعنی کراچی کے کل رقبے کے برابر. سردیوں میں درجۂ حرارت منفی اٹھارہ اور کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ گر جاتا ہے. موجودہ سڑک کی تعمیر پر شمشالی الله اور حکومت پاکستان کا بہت شکر ادا کرتے ہیں مگریہ سڑک بھی دنیا کی خطرناک ترین سڑکوں میں سے ایک ہے جو دور سے پہاڑوں کے درمیان ایک لکیر کی طرح نظر آتی ہے.
اسکے باوجود یہاں کے باسی متحرک اور اپنی مدد آپ کی سوچ رکھنے والے ہیں. آج یہاں تقریباً ہر گھر میں بجلی حاصل کرنے کے لئے سولر پینل موجود ہے. موبائل ٹیلیفون، میٹرک تک لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکول، ہسپتال اور انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے. میٹرک کے بعد عموماً نوجوان لڑکے لڑکیاں یا تو گلمت یا پاکستان کے کسی اور خطے میں اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں.
یہاں کے لوگ آج بھی کھیتی باڑی اور مویشیوں کے ذریعے اپنا پیٹ پالتے ہیں. سڑک بننے سے پہلے لوگ اپنے کپڑے. جوتے، حتیٰ کے مکانات بھی خود تعمیر کرتے تھے. ماضی قریب میں یہاں پر مختلف پیشوں مثلاً درزی، موچی، تعمیراتی مزدوروں، نائیوں کا یہاں تک کے کسی دکان کا بھی کوئی وجود نہیں تھا.
افضل کریم صاحب کینیڈا کے شہر وینکوور میں رہائش پذیرہیں. یہ شمشال ہی میں پیدا ہوۓ اور مڈل تک تعلیم شمشال ہی میں حاصل کی. انکا کہنا ہے کہ ماضی قریب تک یہاں بارٹر سسٹم رائج تھا یعنی کرنسی نوٹوں کا رواج نہیں تھا بلکہ لوگ اشیاء اور خدمات کا ایکسچینج کرتے تھے. افضل کا کہنا ہے کہ “یہاں کے بڑے بوڑھے آج بھی نوٹوں کے حساب کتاب سے پوری طرح واقف نہیں.”
کچھ عرصہ پیشتر تک سال کے آٹھ مہینے بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم یہ لوگ اس لئے بھی منفرد ہیں کے یہ پاکستان سے بے انتہا محبت کرتے ہیں. رحمت الله بیگ پاکستان کی پہلی کوہ پیما خاتون فرزانہ جبیں کے بھائی ہیں اور خود بھی کوہ پیما ہیں. یہ 2014 میں پاکستانی کوہ پیماؤں کی پہلی ٹیم کے ساتھ کے ٹو پہاڑ کو سر کر چکے ہیں. انکا کہنا ہے کہ “پاکستان ہے تو ہم ہیں.” 1976 تک یہ علاقہ میر آف ہنزہ کا باجگزار تھا اور مقامی باشندوں نے اس دور میں شدید ظلم اور استبداد کا سامنا کیا ہے اور اسی لئے یہ پاکستانی حکومت کے بہت ممنون ہیں جنہوں نے ہنزہ کی ریاست کا الحاق پاکستان سے کر کہ انھیں میروں کے ظلم سے نجات دلوائی. اس دور میں شمشال کے مقامی باشندوں کو تاوان کے طور پر نمک کا بوجھ اٹھا کر شمشال سے ہنزہ کا طویل سفر طے کرنا پڑتا تھا اور میروں کے کہنے پر چین اور انڈیا کے درمیاں تجارتی کاروانوں کو بھی لوٹنا پڑتا. میروں کی غلامی سے آزاد ہونے کے بعد شمشالی خود کو آزاد محسوس کرتے ہیں. رحمت الله کا کہنا ہے، “پہلے ہم میروں کے لئے جیتے تھے اب ہم خود اپنے لئے جیتے ہیں.”
![]() |
| بشکریہ افضل کریم |
واخی شناخت سائیڈ سٹوری
سن 1999 کے اعداد و شمار کے مطابق شمشال آبادی گیارہ سو کے قریب تھی جواب تقریباً اٹھارہ سو ہو چکی ہے. یہ آبادی چار گاؤں میں تقسیم ہے. یاد رہے شمشالی ہنزہ میں بولی جانے والی زبان بروشسکی نہیں بولتے. یہ واخی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور واخی زبان ہی بولتے ہیں اور مذہبی عقائد کے لحاظ سے اسماعیلی ہیں. واخی نسل کے لوگ گلگت بلتستان کے علاقے گوجال اور چترال کے علاوہ افغانستان کے صوبے بدخشاں، چینی یا مشرقی ترکستان یعنی موجودہ سنکیانگ اور جنوبی تاجکستان میں تقسیم ہیں. واخی ثقافت کی ابتدا تو پاکستان اور تاجکستان کے بیچ افغانستان میں واخان کی پٹی سے ہوتی ہے لیکن واخی لوگ چینی ترکستان اور پاکستان میں اپنی الگ ثقافت رکھتے ہیں. 2003 میں سڑک کی تکمیل سے پہلے باقی دنیا سے عملی طور پر کٹا ہوا ہونے کی وجہ سے یہاں کی واخی زبان اور تہذیب بہت حد تک اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہے. افضل کا کہنا ہے “واخی زبان جس خطے میں بھی بولی جاتی ہے وہ وہاں کی مقامی زبانوں سے متاثر ہوئی ہے مثلاً تاجکستان اور بدخشان میں فارسی یا دری، پاکستان میں اردو اور بروشسکی، اس زبان پر اثر انداز ہوئی ہیں.”


سائیڈ سٹوری شمشالی دنیا میں:
افضل کا کہنا ہے کہ شمشال کے چھوٹے سے مختصر آبادی والے خطے سے نکل کر یہاں کے کچھ باشندے کراچی، لاہور سمیت ملک کے دیگر خطوں کے ساتھ ساتھ دبئی، کینیڈا، نیوزی لینڈ، برطانیہ، تھائی لینڈ، اور افغانستان تک پہنچ چکے ہیں. افضل کریم خود بھی مڈل کے بعد گلگت چلے گئے تھے. بعد ازاں وہ کراچی میں ایک ہوٹل میں کام کرتے رہے جہاں اکثر ایران سے ہزارہ کمیونٹی کے تاجر قیام کرتے. انگریزی پر عبور اور محنتی ہونے کی وجہ سے انہیں عرب امارت کی ایئر لائن میں ملازمت ملی. آج یہ کینیڈا کے خوبصورت ترین شہر وینکوور میں قیام پذیر ہیں. یہاں انہوں نے سیاحوں کے لئے گائیڈ کی خدمات بھی انجام دیں اور 2010 کے ونٹر اولمپکس میں بھی خدمات انجام دین. کینیڈا کا یہ علاقہ بھی خوبصورت پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے. یہ ان گنے چنے شمشالیوں میں سے ایک ہیں جو ہزاروں میل دور رہ کر بھی اپنے دیس سے محبت اور انسیت کا رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے. یہ واخی زبان میں شاعری کرتے ہیں اور ایسے الفاظ کو اپنی شاعری میں شامل کرتے ہیں جو ختم ہو رہے ہیں. اس طرح یہ کینیڈا میں رہ کر اپنی زبان کی ترویج کا قابل تعریف کام انجام دے رہے ہیں. انکا یہ بھی کہنا ہے کہ اپنی شاعری کے ذریعہ شمشال میں گزرے ہوۓ تمام خوبصورت پلوں کو محفوظ کر رہے ہیں جب وہاں سڑک بجلی اور میڈیا تک رسائی نہیں ہوتی تھی. انکا یہ بھی کہنا ہے کہ کینیڈا آ کر اپنے وطن کی محبت انکے دل میں اور بھی بڑھ گئی ہے.
شمشال کوہ پیماؤں کی وادی
شمشال کو کوہ پیماؤں کی وادی بھی کہا جاتا ہے. رحمت الله کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائ کی تھوڑی سی بھی سمجھ رکھنے والے جانتے ہیں کہ ماؤنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں قراقرم کی چوٹی K2 تک پہنچنا خاصا مشکل اور پر خطر ہے. اس کو آج تک صرف ٣٠٠ لوگوں نے سر کیا اور ٧٧ کوہ پیما K2 سر کرنے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں. اس چوٹی کو پہلی دفعہ 1954 میں اٹلی کی ایک ٹیم نے فتح کیا. اطالوی آج تک پیار سے K2 کو ماؤنٹین آف اٹالین کا نام دیتے ہیں. 2014 میں اٹلی کے ادارے EVK2 نے K2 کی ایک ایسی مہم کو سپانسر کیا جس کے سارے ممبر پاکستانی تھے. رحمت الله بیگ اس مہم میں شامل تھے. وہ نہ صرف K2 پر ایک کوہ پیما کے طور پر چڑھے بلکہ انہیں اسکی تازہ ترین پیمائش کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے.
اپنی مدد آپ کا نظام نوموس
شمشال کے لوگوں کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ یہاں صدیوں سے اپنی مدد آپکا ایک نظام چلا آ رہا ہے جسے نوموس کہا جاتا ہے. افضل کا کہنا ہے کہ اس نظام کے تحت اگر کوئی اپنے فوت شدہ رشتے داروں کے لئے ثواب کی غرض سے صدقہ جاریۂ کرنا چاہے تو وہ پروجیکٹ کے میٹریل کا خرچہ اٹھاتا ہے اور گاؤں کے سارے لوگ مفت اپنی خدمات پیش کرتے ہیں. نوموس شروع کرنے والا اسکا اعلان کرتا ہے اور رضاکاروں کے لئے کھانے پینے کا انتظام کرتا ہے. اس نظام کے تحت شمشال کے لوگ اسکول، مفاد عامہ کے لئے عمارتیں، پل، مویشیوں کو ٹہرانے کے لئے چھپراور مساجد تعمیر کرتے ہیں. افضل کے مطابق ماضی قریب تک خوراک کا ایک عوامی ذخیرہ بھی گاؤں میں رکھا جاتا تھا کہ اگر کسی ضرورتمند کو غذا کی ضرورت پڑے تو اسے فراہم کی جا سکے. یہاں تک کے پھسو سے شمشال جانے والی سڑک بھی بہت حد تک اسی جذبے سے تعمیر کی گئی ہے. پہلے یہ سڑک آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے تحت شروع کی گئی مگر فنڈزکی کمی کے با عث کام رک گیا. دلچسپ بات یہ ہے مقامی مزدوروں نے نوموس کی روایت کے مطابق سڑک بنانے کے لئے آغا خان پروگرام سے کوئی معاوضہ نہیں لیا. آغا خان کی طرف سے پروجیکٹ معطل ہوا تو پاک آرمی نے اسے ٹھیکے پر دے دیا. ٹھیکے داروں نے کہیں شمشالی مزدوروں کی تنخواہیں ادا کیں کہیں نہیں مگر شمشال کے لوگوں نے خوشدلی سے سڑک کی تعمیر کا کام جاری رکھا. رحمت اللہ کا کہنا ہے “ہمیں معلوم تھا کہ سڑک بنے گی تو خوشحالی آئے گی”
پھسو تک جانے والے راستے میں اسی نوموس کی روایت کے تحت مسافروں کے لئے لکڑی کے کمرے ہی نہیں وہاں سامانے خوردو نوش اور گرم بستروں کا انتظام بھی کیا گیا ہے. یہاں سے گزرنے والے مسافر یہاں مفت میں ٹہر بھی سکتے ہیں اور سامان خورد و نوش بھی استعمال کر سکتے ہیں. ٢٠٠٣ میں پھسو سے شمشال تک روڈ بن جانے کے بعد عام طور سے لوگ گاڑیوں کے ذریعے ہی یہاں کا سفر کرتے ہیں مگر اس سے پہلے یہ سہولت ایک بہت بڑی نعمت تھی.
تاریخی روآیات
سوال یہ ہے کہ اتنے دور افتادہ علاقے میں آبادی کیسے ہوئی؟ لوگ گلگت بلتستان کے اتنے بڑے رقبے کو چھوڑ کر ایسے دور افتادہ علاقے میں کیوں جا بسے جہاں سے نکلنے کے لئے تین دن کا پیدل سفر انتہائی دشوار گزار پر خطر راستے میں کرنا پڑتا تھا. اس حوالے سے مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں. افضل بڑی دلچسپ کہانی سناتے ہیں. انکا کہنا ہے کہ آٹھ سو سال قبل انکے جد امجد جنکا نام ماموں سنگھ تھا نے افغانستان کی شاہی خاندان کی ایک لڑکی کو بھگا کر شادی کی اور پکڑے جانے کے خوف سے اس طرف آ نکلے. کچھ عرصہ شمشال نالے میں گزارا پھر باہر نکل کر دیکھا تو یہاں آبادی کے اثار پائے. کھیت کھلیان اور نہری نظام. کچھ روایتوں کے مطابق مکانات بھی تو یہیں رہنے کا فیصلہ کر لیا. مکانات، کھیت اور نہری نظام غالباً کرغیزستان سے آنے والے خانہ بدوشوں کی بدولت تھا. مذکورہ کہانی تھوڑے تھوڑے فرق سے شمشال کے باشندے بیان کرتے ہیں.
کہانی کے مطابق ماموں سنگھ کی شہزادی بیگم اس سخت اور مشکلا ت سے پر زندگی سے خوش نہ تھی اور انہیں شن یعنی ظالم کہ کر مخاطب کرتی. االله کا کرنا یہ ہوا کے ایک دن افغانستان کے علاقے بدخشاں سے ایک بزرگ ادھر آ نکلے. خدیجہ نے انکے احترام میں اپنا دوپٹے بچھایا تو انھوں نے اسے خوشحالی کی دعا دی. اسی وقت خدیجہ نے اپنے شوہر کو اسکے نام سے پکارا اور اس جوڑے کے خراب تعلقات بہتر ہو گئے. کچھ عرصے بعد انکا ایک بیٹا ہوا جسکا نام انھوں نے شیر خان رکھا. شیر خان جوان ہوا تو اس نے چین سے آنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ پولو کھیلی. کہتے ہیں چینی گھوڑوں پر سوار تھے اور شیر خان یاک پر.
ایک اور روایت کے مطابق چین سے آئے گھڑ سواروں نے ماموں سنگھ کے بیٹے شیر خان سے کہا اگر تم نے ہمیں پولو میں ہرا دیا تو یہ سارا علاقہ تمہارا ہے اور جیت جانے پر چین کی سرحد تک کی تمام چرا گاہیں شمشالیوں کی ملکیت ہو گئیں. یاد رہے شمشالی جون سے لیکر اکتوبر تک اپنے مویشی شمشال پاس کے ذریعےپامیر کے پہاڑوں میں واقع چراگاہوں میں لے جاتے ہیں. رحمت الله کے مطابق پامیر کی بلندیوں پر ہر شمشالی خاندان نے اپنی ہٹ بنا رکھی ہے جہاں یہ چرواہے چار مہینے قیام کرتے ہیں. انکے مطابق کل ملا کر52 ہٹس یعنی لکڑی کے کمرے وہاں موجود ہیں.
شمشالی چرا گاہوں کا پاکستانی سرحدوں میں توسیع کی وجہ بننا
شمشال کے آبادی جو صرف رحمت کے مطابق ١٨٠٠ نفوس پر مشتمل ہے کو اس بات پر بھی فخر ہے کہ انکی وجہ سے کہ تین ہزار مربع کلومیٹر کا یہ علاقہ پاکستان کا حصہ بنا. تارڈ صاحب کے مطابق جرنل ایوب خان نے اپنی یادداشتوں میں اس بات کا تذکرہ کیا کہ چین کے ساتھ سرحدوں کے تعین کے لئے ہونے مذاکرات میں ہم نے چینیوں کو بتایا کے یہ ساری چرا گاہیں اہل شمشال کے زیر استعمال رہتی ہیں اور انکی بقا کے لئے ناگزیر ہیں اگر انہیں چین میں شامل کر دیا گیا تو یہ لوگ اپنے ذریعہ معاش سے محروم ہو جائیں گے. چینیوں نے سنکیانگ کے صوبے سے جسے مشرقی ترکستان بھی کہا جاتا تھا معلومات کر کے پاکستان کے دعوے کو تسلیم کیا اور یوں یہ علاقہ پاکستان کا حصہ بن گیا.
مستنصرحسین تارڈ اور شمشال بے مثال
تارڈ صاحب نے 1999 میں جب کارگل کا معرکہ اپنے عروج پر تھا یہاں کا سفر کیا. شمشال کو بیمثال کہا اور اسی نام سے ایک کتاب لکھی. اس کتاب سے پہلے ایک عا م آدمی شاید ہی شمشال کو جانتا ہو بلکہ انکے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کی اکثریت بھی کبھی شمشال نہیں گئی تھی. اس وقت شمشال تک سڑک مکمل نہیں ہوئی تھی اور علاقہ بہت حد تک اس خطے کی قدیم تہذیب کی نمائندگی کرتا تھا. پاکستانی شمال کے دیگر بہت سے خطوں کی طرح شمشال کی سیاحتی ترقی میں بھی تارڈ صاحب کا بہت حصہ ہے.
مستنصر حسین تارڈ نے شمشالی اسکول کا بھی دورہ کیا اور بچوں کی تعلیم میں مختلف موضوعات پر بحث اور مباحثے کے کردار اور فطرت کی تسخیر کا نصاب کے طور پر تذکرہ بڑی دلچسپی سے کیا ہے. اسکے علاوہ پاکستان کے قومی ترانے کا احترام اور اسکول میں اقبال کی نظم “لب پر آتی ہے دعا بن کے تمنا میری| اسمبلی میں پڑھے جانے کا بھی ذکر کیا. انہوں نے ماموں سنگھ کے قدیم گھر میں ایک میوزیم کا بھی تذکرہ کیا جہاں چینی ظروف، کپڑا بننے والی کھڈی، اور دوسرے سامان سے پتہ چلتا تھا کہ قدیم دور میں بھی یہ دورافتادہ علاقہ تہذیب یافتہ تھا. رحمت الله کا کہنا ہے کے آج یہ گھر اسکے مالک نے مسمار کر دیا ہے.
سڑک بن جانے کی وجہ سے 1999 اور آج کے شمشال میں زمیں آسمان کا فرق ہے. رحمت الله کا کہنا ہے کہ “آج ہم عزت کے ساتھ ضروری سودا سلف گاڑیوں میں رکھ کر شمشال لے جاتے ہیں.”
چینی تجارتی کاروانوں کی لوٹ مار اور میروں کا تاوان
رحمت اللہ خان کے والد شمبی خان جو اپنے گاؤں کے نمبردار ہیں کا کہنا ہے کہ ہنزہ کے میر تاوان کے طور پر شمشال کے لوگوں کو درہ شمشال کے ذریعے چین میں یارقند اور لیہ کے درمیاں سفر کرنے والے قافلوں کو لوٹنے کے لئے بھیجتے. کم از کم ایک دفعہ ایسی مہم کا تذکرہ برٹش انڈیا کے ریکارڈ میں بھی ملتا ہے اور یہی لوٹ مار بظاہر برٹش انڈیا کی تاریخ کے اہم ترین مہم جو سر فرانسس ینگ ہزبینڈ کی ١٨٨٧ یا ١٨٨٨ میں شمشال آمد کا سبب بنا.
سائیڈ سٹوری : برطانوی مہم جو اور شمشال (مرضی ہے سٹوری دین یا ساتھ شامل رکھیں) ہیڈنگ ضرور رکھیں اور ریلایونٹ تصویر ہر حصّے کی دین )
برٹش مہم جو گریٹ گیم اور شمشال
![]()
برٹش انڈیا اپنے ابتدائی ادوار سے ہی روسی جارحیت اور پیشقدمی سے خائف رہا. اسی خوف نے گریٹ گیم جیسی اصطلاحات کو جنم دیا اور اسی نے انگریزی ادب کے پہلے نوبل پرائز حاصل کرنے والے ادیب رڈ یارڈ کپلنگ سے اسکا شہرہ آفاق ناول “کم” KIM لکھوایا. ایک چھوٹے سے جزیرے سے نکل کر دنیا کی بڑے حصے پر بالادستی حاصل کرنے میں یہ قوم کیسے کامیاب ہوئی یہ جاننا ہو تو ابتدائی انگریز مہم جوؤں کی پاکستان کے شمال میں موجود کشمیر، گلگت، ہنزہ کی وادیوں، شمشال، سکردو، مشرقی ترکستان کے علاقے یارقند، کاشغر جو آج موجودہ چین کا حصہ ہے، تبت، اور لاحسا ججیسے پر صعوبت علاقوں میں انکی مہم جوئیوں کی داستانیں پڑھنا کافی ہے. برطانوی مہم جو دراصل جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی، سیاسی اور عسکری معلومات کے حصول کے لئے ان علاقوں کا بلکہ دنیا بھر کے مشکلات سے پر علاقوں کا سفر کرتے رہے. انکا اصل مقصد تاج برطانیہ کو اسکے آئندہ لا ئحۂ عمل کے لئے معلومات فراہم کرنا ہوتا تھا. یہ ان میں سے بہت سے غیر معروف علاقوں کو دنیا کے نقشے پر لانے کا سبب بھی بنے. برٹش انڈیا کے سرینگر سے لاتعداد سفر ہنزہ کی وادیوں اور چین کی طرف کیے گئے اور بہت مختلف راستوں سے کیے گئے. برطانوی مہم جوؤں نے بیشمار کتابیں لکھ کر ان علاقوں کی تاریخ کو محفوظ کردیا جو ایک بڑا کارنامہ ہے. ان کتابوں میں انہوں نے اس بات کو راز نہیں رکھا کہ انکا اصل مقصد برطانیہ کا مفاد تھا. بحر حال اپنے وطن کے مفاد کے لیے انکی لگن بلکہ جنون قابل قدر ہے. سچی بات تو یہ ہے کہ انکے کارناموں پر نظر ڈالی جائے تو سر سید کی طرح یہی کہنے کو دل چاہتا ہے کہ یہ قوم مستحق تھی کہ اسے یہ مقام حاصل ہو.
![]() |
مستاگ پاس |
مستاگ پاس
شمشال کی طرف جن لوگوں نے سفر کیا ان میں سر فرانسس کا نام اس لئے سر فہرست ہے کہ انھیں چین کے سفر کے دوران کاشغر میں اس بات کا حکم ملا کہ انڈیا میں لیہ اور چینی ترکستان میں یارقند کے درمیاں جو کارواں گزرتے ہیں ہنزہ کی ایک وادی (موجودہ شمشال) سے اس پر حملہ ہو رہا ہے. یارقند سی ہنزہ کا ایک ہی راستہ تھا جسے درہ مستا گ کہا جاتا ہے.
درہ مستاگ کے ٹو کے دامن میں شاکسگم کے قریب ہے جہاں شمبی خان کے مطابق قافلوں کو لوٹا جاتا. شاکسگم اب چین میں شامل ہو گیا ہے . دنیا کے طویل ترین گلیشیرز کی حصار میں یہ علاقہ سارا سال برف سے ڈھکا رہتا تھا اور تقریباً پچھلے چالیس سال سے اس راستے پر شمشال، سکردو اور چینی ترکستان کے باسیوں کے علاوہ جو اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لئے یہ دشوار گزار سفر کرتے کسی نے سفر نہ کیا تھا. فرانسسس نے برطانوی فوج کے احکامات پر نہ صرف درہ مستاگ دریافت کیا بلکہ اپنی حکومت کے لئے چین اور برٹش انڈیا (موجودہ پاکستان) کے درمیان مختصر ترین راستے کو دنیا کے سامنے لایا.
1896 میں چھپنے والی اسکی کتاب The Heart of The Continent سے پتہ چلتا ہے کے وہ روس، انڈیا اور چین کے سنگم پر پامیر کی پہاڑیوں کا خلاء جو نقشے پر موجود تھا اسے پر کرنا چاہتا تھا. اس نے درہ مستاگ کو ایشیا کا مرکز بھی کہا ہے جہاں برٹش انڈیا، چین اور روس اپنے وقت کی تین عظیم سلطنتیں ملتی تھیں. رحمت الله کا کہنا ہے کہ فرانسس مستاگ کراس کر کے شمشال میں درہ شمشال کے ذریعے داخل ہوا. یہ بات واضح رہے کے ششال پاس پھسو سے شمشال کے درمیان نہیں بلکہ شمشال سے مزید آگے چین کی سرحد کی طرف ہے. اسی کے ذریعے اہل شمشال اپنے مویشیوں کو موسم گرما کی چراگاہوں میں پامیر کے پہاڑوں کی طرف لے جاتے ہیں. جہاں تک درہ مستاگ کے ذریعہ چین پہنچنے کا سوال ہے آج کل یہ راستہ نہ صرف بند ہے بلکہ رحمت الله کا کہنا ہے کہ اس راستے سے چین جانے کی اجازت بھی نہیں ہے.
شمشال کی جنگلی حیات اورمویشی
شمشال اس لئے بھی بے مثال ہے کہ یہاں یاک بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں. 1999 میں پوری وادی میں ایک ہزار یاک تھے. اسکا دودھ اور گوشت بھی خورد و نوش کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے سواری اور بار برداری کا کام بھی لیا جاتا ہے. یہاں مار خور، آئی بیکس یعنی پہاڑی بکرا اور بلوشیپ بھی بڑی تعداد میں ہیں جوساری دنیا میں کم یاب ہیں.
جنگلی حیات کا تحفظ اور جانوروں کی زبان
شمشال اس لئے بھی بے مثال ہے کہ یہاں کے لوگ جنگلی حیات کے تحفظ پر یقین رکھتے ہیں. افضل کریم کا کہنا ہے کہ شمشال کے لوگ فطرت کا مذہبی عقیدے کی طرح احترام کرتے ہیں.جانوروں کے بے دریغ شکار سے پرہیز کرتے ہیں . ایک وقت میں ایک ہی جانور کا شکار کیا جاتا ہے اور اسے عام طور سے سارے گاؤں میں بانٹا جاتا ہے. اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ شکار ہونے والا جانور حاملہ یا بچوں کی ماں نہ ہو.
اگر کوئی مویشی اپنے نوزائیدہ بچے کو دودھ نہ پلائے تو اس مویشی کو واخی زبان میں ایک طرح کا گانا سنایا جاتا ہے. افضال کا کہنا ہے کہ اپنے بچپن میں انہوں نے خود اس گانے کا اثر دیکھا ہے. انکا یہ بھی کہنا ہے کہ مختلف جانوروں سے بات چیت اور پیار کا اظہار کرنے کے لئے ایک ہی طرح کے الفاظ استعمال نہیں کیے جاتے بلکہ ہر جانور سے گفتگو کے لئے واخی زبان میں الگ الگ الفاظ ہیں.
پاکستان میں شمولیت
شمشالیوں کی حکومت پاکستان سے صرف ایک ڈیمانڈ ہے کہ اس علاقے کو پاکستان میں شامل کیا جائے. پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے گلگت بلتستان کو الگ صوبہ کی حیثیت تو دے دی ہے مگر کشمیر کے ساتھ متنازعہ علاقہ قرار دیئے جانے کی وجہ سے اب تک اس صوبے کو آئینی حیثیت نہیں دی گئی ہے جو پورے صوبے کے باشندوں کا اجتمائی مطالبہ ہے. یاد رہے ہنزہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم نے لڑ کر اپنے علاقے کو انڈیا سے آزاد کروایا ہے جبکے باقی پاکستانیوں کو یہ بغیر لڑے مل گیا پھر بھی یہ پاکستانی کہلاتے ہیں جبکہ دنیا ہمیں پاکستانی نہیں مانتی.
سیاحت اور کوہ پیمائ میں ترقی
جون ٢٠١٣ میں نانگا پربت روپال فیس کے بیس کیمپ پرغیر ملکی کوہ پیماؤں کے قتل کے سانحہ کے بعد سے حالیہ دنوں میں پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں اور کوہ پیماؤں کی آمد عملی طور سے ختم ہو گئی ہے. لیکن رحمت الله کا کہنا ہے کہ پاکستان کا لوکل ٹورازم پچھلے دس سال میں کئی گنا بڑھ گیا ہے. بہت بڑی تعداد میں پاکستانی ٹورسٹ شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے لئے آتے ہے. ان میں محض sightseeing کرنے والے بھی ہوتے ہیں، اور ٹریکنگ اور ہائی کنگ اور کلائمبنگ کے شوقین بھی. لیکن رحمت الله بیگ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کوہ پیماؤں کی تربیت کا کوئی ادارہ موجود نہیں. اور کوئی ایسا ادارہ بھی نہیں جو پاکستانی کوہ پیماؤں کی مہمات آرگنائز کرے. الپائن کلب آف پاکستان نے ایک زمانے میں تربیت کا کچھ انتظام کیا تھا مگر اب وہ بھی غیر فعال ہے.
انکا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈین فلمی اداکاروں کی چھوٹی چھوٹی خبروں کو بریکنگ نیوز کا درجہ دینے والے پاکستانی ٹی وی چینلوں نے K2 سر کرنے والی پاکستانی ٹیم کا انٹرویو نہیں کیا. اخبارات میں بھی ایک آدھ کو چھوڑ کر صرف گلگت بلتستان کے لوکل اخبارات نے ہمارے انٹرویوز کی اشاعت کی. اس صورتحال میں ہم پاکستان میں کوہ پیمائی کے مستقبل کے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں.
شمشالی پاکستان کے شیرپا
شمشالیوں کو پاکستان کا شیرپا بھی کہا جاتا ہے. یاد رہے شیرپا نیپال کے ایک خاص علاقے سے تعلق رکھنے والے قلیوں کو کہتے ہیں جو بلند چوٹیاں سر کرنے والے کوہ پیماؤں کا سامان بیس کمپ تک پہنچاتے ہیں. یہ ہائی آلٹی چیوڈ پورٹر بھی کہلاتے ہیں. رحمت الله بیگ کا کہنا ہے کہ “کے ٹو پر جانے والی بہت سی غیر ملکی ٹیمیں پاکستانی پورٹرز کے مقابلے میں میں نیپالی شیر پاؤں کو ترجیح دیتی ہیں اور اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی پورٹرز محنتی اور بہادر ہونے کے باوجود تربیت یافتہ نہیں ہوتے اگر انکو تربیت دینے کا کوئی انتظام ہو تو دنیا پاکستانی پورٹرز کو ترجیح دے.” جس سے یہاں بیروزگاری کم ہونے کے علاوہ پاکستان کوقیمتی زر مبادلہ بھی حاصل ہو. رحمت اللہ، جنہیں خود اٹالین ٹیم نے تربیت دی کی خواہش ہے کہ وہ پاکستان میں ہائی آلٹی چیوڈ پورٹرز کے لئے تربیتی ادارہ قائم کر سکیں.
ختم شد


