روہنگیا مسلمان: ماضی حال اور مستقبل

 

روہنگیا مسلمان: ماضی حال اور مستقبل

پچھلے چالیس سال سے بد ترین نسل کشی کا شکار ان بے کس اور محکوم مسلمانوں کے مسئلے کا دیرپا اور ٹھوس حل کیا ہے ؟


تزئین حسن 


برما کے روہنگیا مسلمانوں کو خود اقوام متحدہ نے 2013 میں دنیا کی مظلوم ترین اقلیت قرار دیا. حال ہی میں اسی عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے یہ ایتھنک کلینسنگ (یعنی کسی نسل کو اسکی سرزمین سے بیدخل کرنے ) کی کوشش کا ٹیکسٹ بک کیس ہے. متعدد یونیورسٹیز اور تھنک ٹینکس کے مطابق یہ محض ایتھنک کلینسنگ نہیں بلکہ ان بے بس بے آواز لوگوں پر
 کم از کم چالیس سال سے جو ستم توڑے جا رہے ہیں وہ اقوام متحدہ کی Genocide یعنی کسی نسل کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی تعریف پر پورا اترتے ہیں.  25 اگست 2017 سے لیکر یہ سطور قلم بند ہونے تک چار لاکھ سے زائد روہنگیا باشندے اپنے گھروں کو چھوڑ کر بنگلہ دیش کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں. انٹرنیشنل میڈیا میں چھپنے والی رپورٹس کے مطابق برما کے صوبے راخین جسے قبل ازیں اراکان کہا جاتا تھے کے شمال میں سو کلومیٹر کے رقبے میں روہنگیا مسلمانوں کے جتنے بھی گاؤں ہیں انھیں باقائدہ برمی فضائیہ کے ہیلی کاپٹرز اور کسی زود اثر کیمیکل کی مدد سے آگ لگا دی گئی ہے. اسکےعلاوہ انہیں رپورٹس کے مطابق برمی فوج نے برمی نیشنلسٹ اور انتہا پسندوں کو مسلح کیا جنھوں نے مسلمان باشندوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں بڑے پیمانے پر ہجرت پر مجبور کیا.


اہم بات یہ ہے کہ شمالی ارکان میں بسنے والے روہنگیا، جو مستند تاریخوں کے مطابق آٹھویں صدی عیسوی سے اٹھارویں صدی کے دوران وہاں آباد ہوے اور جنھیں برما کی آزادی کے بعد برما کے مقامی باشندوں کا درجہ حاصل تھا، کے ساتھ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا. لندن اسکول آف اکنامکس میں پڑھنے والے ایک برمی بدھسٹ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ڈاکٹر زارنی کا کہنا ہے کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف بد ترین نسل کشی 1978 سے با قائدہ سرکاری سر پرستی میں جاری ہے مگر برمی حکومت اور آرمی کا موقف یہ ہے کہ روہنگیا نامی کوئی قوم برما میں نہیں بستی اور ڈھائی سے تین ملین باشندوں پر مشتمل یہ قوم جواب نصف سے زیادہ برما کی سرحدوں سے باہر دھکیل دی گئی ہے غیر قانونی بنگالی مہاجرین ہیں جنکا برمی سر زمین پر کوئی حق نہیں.

آیئے اس حوالے سے کچھ سوالات کے جوابات مستند ذرائع سے تلاش کرتے ہیں. یہ روہنگیا کون ہیں؟ یہ برما میں کب سے مقیم ہیں؟ کیا واقعی یہ غیر قانونی مقیم افراد ہیں؟ وہاں اگر Ethnic Cleansing یا Genocide ہو رہی ہے تو عالمی اداروں، مسلم دنیا اور بینالاقوامی میڈیا کا کیا کردار ہے، کیا آنگ سنگ سوچی سے نوبل پرائز اور کینیڈا کی شہریت کی واپسی کا مطالبہ، سوشل میڈیا پر پوسٹس کا تبادلۂ، اور اس سے بڑھ کر جلسے اور ریلیاں منعقد کر کے انکے لئے کچھ فنڈ اکٹھے کر لینا کافی ہے؟  اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس بحران کا جس نے انسانیت کو شرما دینے والے المیہ کو جنم دیا ہے، ٹھوس اور دیرپا حل کیا ہے؟


ارکان یا موجودہ راخین کے روہنگیا مسلمان کون ہیں؟ اسکو سمجھنے کے لئے تاریخی تناظر اور جغرافیائی محل وقوع دونوں کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ ارکان کا علاقہ قدرتی طور پر برما کے بجائے موجودہ بنگلادیش سے متصل ہے. برمی حکومت کا موقف یہ ہے کہ روہنگیا کا لفظ بیسویں صدی سے پہلے استمعال نہیں کیا گیا. یہاں تک کے ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی راج کے ریکارڈز میں بھی یہ لفظ نہیں ملتا. اس لئے روہنگیا نامی کسی قوم کا کوئی تاریخی وجود موجود نہیں اور روہنگیا کہلانے والے دراصل غیر قانونی بنگالی ہیں. برمی حکومت کے اس دعوے کا جواب اقوام متحدہ کے سیکریرتری جرنل کوفی عنان دیتے ہیں. انکا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے چارٹر کے مطابق انسانوں کے کسی بھی گروہ کا یہ حق ہے کے وہ اپنے آپ کو جس نام سے بھی شناخت کرنا چاہے کر سکتی ہے. اس لئے ارکان کے مسلمان اپنے لئے کوئی بھی نام پسند کر سکتے ہیں.

اراکان کے مسلمانوں کی تاریخ اور جغرافیہ  

برما کے مغربی خطے ارکان یا موجودہ راخین کے جغرافیہ کے بارے میں ایک بات جو بہت کم لوگوں کو معلوم ہے خلیج بنگال میں ٣٥٠ کلومیٹر تک پھیلی ہوئی یہ ساحلی پٹی برما کے دوسرے خطوں سے اراکان پہاڑی سلسلے کے ذریعے مکمل طور پر کٹی ہوئی ہے لیکن خشکی کے راستے یہ موجودہ بنگلادیش کے چٹا کانگ نامی صوبے سے ٢٣٠ کلومیٹر لمبی پٹی کے ذریعے قدرتی طور پر جڑا ہوا ہے اور اسی حوالے سے اس علاقے کی تاریخ، سیاست اور ثقافت ہزاروں سال سے برما کے بجائے بنگال سے وابستہ رہے ہے. 


1785 سے پہلے اراکان کا خطہ دو ہزار سالوں سے برما سے الگ اپنی خود مختار حیثیت رکھتا تھا. تاریخ میں ایسے دور آئے جب موجودہ بنگلادیش کا علاقہ چٹا کانگ اراکان کی سلطنت کا حصہ تھا اور اسی طرح پندھرویں صدی میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب موجودہ ارا کان بنگال کی مسلم سلطنت کی باج گزار ریاست رہی اور یہاں بنگال کی سلطنت کے فارسی اور عربی تحریروں والے سکے استمعال ہوے. یہاں تک کے اسکے بادشاہوں نے سلطان کا لقب اختیار کیا. خصوصاً پندرھویں سے اٹھارویں صدی کے اواخر تک اراکان کی تاریخ مکمل طور پر بنگال سے وابستہ رہی. دریاۓ ناف جسے پار کر کے آج برمی پناہ گزین بنگلادیش کی سرحد پر پہنچ رہی ہیں چٹا کانگ اور اراکان کے درمیان واقع ہے. اس سے متصل اراکان کا حصہ مایو کہلاتا ہے جہاں برما کی آزادی سے پہلے بلکہ  برمی ملٹری اور انتہا پسندوں کے حملوں سے پیدا ہونے والے حالیہ انسانی المیہ سے پیشتر مسلمان اکثریت میں تھے.

یاد رہے اسی علاقے مایو کے مسلمان ہی اپنے آپ کو روہنگیا کہلانے پر اصرار کرتے ہیں ورنہ برما میں اسکے علاوہ بھی مختلف نسلوں کے مسلمان موجود ہیں جن میں ہندوستانی سپاہیوں کی اولاد یا نسلیں جو کمان کہلاتی ہیں، چینی صوبے یونان کے فارسی النسل مسلمان اور برما کے اپنے مقامی باشندے جنہوں نے اسلام کی برما میں آمد کے بعد اسلام قبول کیا. ان سب نسلوں کو برمی حکومت برما کے باشندے تسلیم کرتی ہے کیونکے انہوں نے اپنے مذہبی تشخص کو برقرار رکھتے ہوے برما کی ثقافت اختیار کی لیکن ارکان کے مسلمانوں کو برمی حکومت برما کے باشندے تسلیم نہیں کرتی کیونکے انکی ثقافت برما سے الگ ارکان کی ثقافت ہے جو بنگال سے قریب ہونے کی وجہ سے اس سے متاثر ہے. یہاں تک کے ارکان کی زبان بھی بنگالی، اردو، فارسی، عربی  اور برمی زبان کے ملاپ سے وجود میں آئ ہے.

موشے یگر نامی اسرائیلی اسکالر اپنی کتب Muslims in Burma میں گیارہویں صدی سے لیکر 1962عیسوی تک برمی مسلمانوں کی تاریخ کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ کرتے ہیں. یہ کتاب انھوں نے Hebrew UniversityJerusalem میں ایم اے کی ڈگری کی تکمیل کے لئے  رنگون کے اسرائیلی سفارتخانے کے ملازم کے طور پر اپنے قیام کے دوران لکھی جو 1972 میں شائع ہوئی. انکا کہنا ہے کہ مستند تاریخوں حوالوں کے مطابق مسلمان ٧٥٠ عیسوی میں ہی برما تک پہنچ چکے تھے کیونکے یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندری تجارت پر انکا کنٹرول اسلام کی ابتدا ہی سے تھا اور انکی بستیاں جنوبی انڈیا کے ساحلی علاقے مالابار، خلیج بنگال، ملاکا یعنی موجودہ ملیشیا، سیلون یعنی موجودہ سری لنکا، مالدیپ، اور سیام یعنی موجودہ تھائی لینڈ اور چین کے صوبے یونان تک پھیلی ہوئی تھیں. چینی سیاحوں نے برما اور چینی صوبے یونان کے ساحلی علاقوں میں ٨٦٢ عیسوی میں ہی فارسی مسلمانوں کی بستیوں کا تذکرہ کیا ہے. اسکے علاوہ نویں صدی کے فارسی تاریخ دان ابن خوردادبے اور عرب تاریخدان سلیمان (پورا نام موجود نہیں)، دسویں صدی کے ابن فقیہ، مقدیسی اور تیرھویں صدی میں ابن بطوطہ نے برما کا تذکرہ اپنی تحریروں میں کیا ہے. اس طرح برما میں مسلمانوں کی تاریخ اسلام کی تاریخ جتنی ہی پرانی ہے.


پندرھویں، سولہویں، اور سترویں صدی میں یوروپی سیاحوں نے برما کے ساحلی علاقوں میں مسلمان تاجروں کی بستیوں کا تذکرہ کیا ہے. موشے کا کہنا ہے کہ قرون وسطیٰ کے یوروپی سیاحوں اور مسلمان اسکالرز کی تحریروں کے قوی شواہد کے باوجود برما کے اپنے تاریخ دان یہاں تاریخی مسلم موجودگی کا انکار کرتے ہیں.

دوبارہ یاد دلا دیں کہ ارکان کا علاقہ برما کے دوسرے علاقوں سے مکمل طور پر کٹا ہوا ہے. جیکوئس لیڈر نامی ایک فرنچ مصنف اور تحقیق نگار کے مطابق 1785 میں برمی حکومت کے اراکان پر کنٹرول حاصل کرنے سے پہلے ارکان کی تاریخ پچھلے دو ہزار سال سے برما کے بجائے بنگال سے وابستہ رہی تھی خصوصاً چودھویں صدی سے اٹھارویں صدی کے اواخر تک. کیونکے دریاۓ ناف جو چٹا کانگ اور ارکان کے درمیان موجود ہے اس نے کبھی سرحد کا کام نہیں دیا.

عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسلام بنگال میں ١٢٠٣ میں مسلم کنٹرول کے بعد پہنچا لیکن اثار قدیمہ کی کھدائی سے پتہ چلتا ہے کہ بنگال میں اسلام انحضرت صلیٰ الله الہ وسلم کی وفات کے پچاس سال کے اندر اندر مسلم تجار اور جہاز رانوں کے ذریعہ پہنچ چکا تھا. حال ہی میں بنگلہ دیش میں ہندستان کی پہلی مسجد دریافت ہی جو ماہرین کے مطابق 680 عیسوی میں تعمیر ہوئی. تیرھویں صدی کے آغاز میں میں بنگال میں مسلمانوں کی باقائدہ سلطنت قائم ہو گئی تھی. سمندر اور خشکی کے ذریعے سے بنگال سے قربت  کے باعث اراکان کے علاقے میں اسلام کے اثرات پہنچنا ناگزیر تھے.


پندھرویں صدی میں بنگال کی مسلم سلطنت کے تعاون سے یہاں کے حکمران نارا میکھلا جو من سا مون بھی کہلاتا تھا نے موجودہ بنگلادیش کے کچھ علاقے اور موجودہ راخین میں ماروک یو نامی ریاست قائم کی اور بنگال کی سلطنت کی سرپرستی میں اسکی باج گزار ریاست بن گئی. اسکے ساتھ لڑنے والے بنگالی سپاہی راخین میں ہی آباد ہو گئے. یہ راخین کی تاریخ کا سنہرا ترین دور کہلاتا ہے. فرنچ مصنف جیکوئس لیڈر کا کہنا ہے کہ ارکان کے مسلمان اور بدھسٹ دونوں برما سے الگ اپنا علیحدہ تشخص رکھتے ہیں. اور 1785 سے پیشتر ارکان کی خود مختار ریاست کو آج بھی یاد کرتے ہیں. یہ بات بھی یاد رہے کہ اٹھارویں صدی سے پہلے ارکان مسلمانوں اور بدھ مت کے ماننے والوں میں کبھی فرقہ وارانہ فسادات کا ذکر نہیں ملتا. 


دلچسپ بات یہ ہے کہ بدھ مت کے پیروکار ہونے کے باوجود پندھرویں صدی میں قائم مسلم بنگال کی باج گزار ریاست مارک یو سلطنت کے حکمرانوں نے نہ صرف اسلامی القابات قبول کیے بلکہ بنگالی مسلمان باد شاہوں کے سکے بھی اراکان میں رائج کئے جو تیرویں صدی سے بنگال میں زیر استمعال تھے. ان سکوں پر کلمہ طیبہ صاف دیکھا جا سکتا ہے. بعد ازاں جب نارا میخلا نے اپنے سکّے ڈھلوائے تو بھی سکے کے ایک طرف برمی زبان میں اور دوسری طرف فارسی زبان میں اپنے القابات کندہ کروائے. بعض مورخین اسی بنیاد پر اس حکومت کو مسلمانوں کی آزاد خود مختار حکومت گردانتی ہے اور انکا کہنا ہے کہ نارمیخلہ نے اسلام قبول کر لیا تھا مگر موشے کا کہنا ہے کے اسلامی اثرات کی وجہ مسلم بنگال کا باج گزار ہونا تھی.

نارا میکھلا کے بعد اگلے سو سالوں میں  نو دوسرے حکمران بھی اسی طرح بنگال کی باج گزار رہے اور اسلامی اثرات اس علاقے میں بڑھتے گئے. مقامی لوگوں کی ایک معقول تعداد نے بھی اسلام قبول کیا ہو گا. ایک اور دلچسپ بات یہ کے یہ سب حکمران اپنے برمی ناموں کے ساتھ ساتھ دربار میں مسلم القابات بھی استمعال کرتے رہے. بلکہ بنگال کی مرکزی مسلم حکومت کے کمزور پڑنے اور اسکے اثر سے آزاد ہونے کے بعد بھی ماروک یو سلطنت کے حکمران مغلوں کی طرح سلطان کا لقب استمعال کرنے میں فخر محسوس کرتے رہے. مسلمان بڑی تعداد میں شاہی دربار اور انتظامی محکموں سے بھی وابستہ رہے.


کولمبس کے بزعم خود امریکا دریافت کرنے کے بعد یورپ مملک تمام دنیا کو تسخیر کرنے نکل کھڑے ہوے اور بحر ہند کی تجارت سے مسلمانوں کا کنٹرول بھی کمزور پڑتا جا رہا تھا.  سولہویں
 صدی میں پرتگالی اس علاقے میں وارد ہوے. اس وقت تک بنگال کی سلطنت مغل حملوں کی وجہ سے کمزور پڑنے سے اراکان کا علاقہ اسکا باج گزار نہ رہا تھا. ارا کان کے حکمرانوں نے پرتگالیوں کو اپنی بندر گاہیں استمعال کرنے کی اجازت دیں اور انھیں تجارتی لائسنس بھی دیے. اسکے بدلے میں پرتگالیوں نے اراکان کو عسکری مہمات میں مدد دی بلکہ انکے ساتھ بنگال پر مشترکہ یورشیں بھی کیں. 


بنگال پر مغلوں کا کنٹرول اکبر کے زمانے میں ہی ہو چکا تھا. مغلوں نے بحری بیڑوں کی تیاری پر کبھی توجہ نہیں دی بلکہ اکبر نے خود یوروپی تجارتی مشنز کو سہولتیں دیں. یہں تک کے اپنی جنگی مہمات میں وہ عیسائی مشنری کے افراد کو اپنے ساتھ رکھتا. ارکان اور پرتگالیوں نے سمندر کے راستے بنگال پر حملے کرنے شروع کئے اور ساحلی علاقوں سے جنگی قیدیوں کو غلام بنانا شروع کیا. یہ کام انہیں یقیناً پرتگالیوں نے ہی سکھایا ہو گا کیونکے اس دور میں افریقہ سے یوروپی ممالک آزاد انسانوں کو غلام بنانے کا کام زور و شور سے جاری تھا. آج بھی امریکا کی سیاہ فام آبادی دراصل ان غلاموں کی ہی اولاد ہے. معاہدے کے مطابق نصف قیدی پرتگالیوں کے حوالے کر دے جاتے جنھیں وہ غلام بنا کر اپنے ساتھ لے جاتے اور نصف سے اراکان میں جبری محنت لی جاتی. بعد ازاں یہ قیدی بھی اراکان ہی میں آباد ہو گئے. 

ان قیدیوں کو سپاہیوں کے طور پر برمی فوج میں بھی شامل کیا گیا. یہ بنگالی مسلمان سپاہی بھی بعد ازاں ارکان نامی صوبے ہی میں مقیم ہوے اور یہ مسلم اکثریتی علاقہ بن گیا. آج انکی اولاد بھی روہنگیا کا حصہ ہے. 
١٦٦٠ میں مغل حکمران شاہ جہاں کا ایک بیٹا شاہ شجاع جو بنگال بہار اور اڑیسہ کا گورنر رہ چکا تھا اقتدار کی جدو جہد میں ناکامی کے بعد اپنی بچی کچھی فوج کے ساتھ ارکان کے علاقے میں پناہ کی غرض سے داخل ہوا. شروع میں اسکا استقبال کیا گیا لیکن جلد ہی اسے قتل کر کے اسکے خزانے پر ارکان کی حکومت نے قبضہ کر لیا. بعد ازاں اسکے سپاہیوں نے انڈیا واپس جانے کے بجائے اراکانی فوج میں شامل ہونے کو ترجیح دی. اراکانی فوج کا یہ دستہ کمان کھلایا. یاد رہے کمان فارسی زبان کا لفظ ہے. اسکے ساتھ ساتھ انڈیا، افغانستان اور وسطی ایشیا سے کرائے کے فوجی بھی بڑی تعداد میں اراکانی فوج کا حصہ بنتے رہے اور کمان ہی کہلائے یہاں تک کے ان سپاہیوں کی طاقت اتنی بڑھی کہ ١٦٩٢ میں ایک بغاوت کے نتیجے میں ارکان کے خطے میں انکی حکومت قائم ہو گئی اور اگلے اٹھارہ سال تک خطے کا کنٹرول کمان یونٹس اور انڈیا سے آنےوالے مسلم سپاہیوں کے ہاتھ میں رہا.


موشے کے مطابق ١٦٦٠ سے ١٧١٠ تک ارکان کی حکومت میں کمان نامی مسلمان سپاہیوں کا اثر رسوخ اس حد تک بڑھا ہوا تھا کہ ایک طرح سے انھیں بادشاہ گر کا رتبہ حاصل تھا.
اس حکومت کے ختم ہونے کے بعد کمان کی بڑی تعداد کو رامرے جزیرے پر جلا وطن کر دیا گیا جہاں آج بھی انکی نسلیں رہتی ہیں. موشے کے مطابق ان مسلمانوں کی نسلیں بظاہر مسلمان ہیں مگر ثقافتی طور پر ان میں اور بدھ مذھب کے ماننے والوں میں کوئی فرق نہیں سوائے کچھ شیعہ مذہبی رسومات کے.

سن 1785 میں برما کی مرکزی حکومت نے صدیوں کے عرصے میں پہلی مرتبہ ارکان پر فتح حاصل کی. دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ برما کی فوج جس نے ارکان پر قبضہ کیا اس میں بھی ایک یونٹ مسلمان سپاہیوں کا موجود تھا جو ارکان ہی میں آباد ہو گئے جہاں بدھ مت، ہندو مت اور مسلمان تینوں قومیں آباد تھیں اور انکا برما کی سرزمین سے الگ تشخص تھا. جیکوئس لیڈر کے مطابق راخین کے بدھ آج بھی اپنے آپ کو برمی کہلانا پسند نہیں کرتے. یہاں کے بدھ برمی زبان بولتے ہیں جبکہ مسلمان چٹا کانگ میں بولی جانے والی زبان بولتے ہیں جس میں بری تعداد میں فارسی اور عربی کے الفاظ آج بھی موجود ہیں.

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مسلمان سپاہی جو کمان کہلاتے ہیں انکی آئندہ نسلیں اب بھی کمان کہلاتی ہیں اور کمان ان ١٣٥ نسلی گروہوں میں شامل ہے جنہیں برمی حکومت برمی باشندہ تسلیم کرتی ہے.

برطانیہ نے برما پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے جو کوششیں کیں ان میں تین مہمات قبل ذکر ہیں جو1824-25 , 1852 اور 1885 میں لڑی گئیں اور اینگلو-برمی جنگیں کہلاتی ہیں. بنگال سے قربت کی وجہ سے ارا کان پہلی مہم میں ہی برطانوی نو آبادیات کا حصہ بن گیا تھا.


انگریز اپنی ہر نو عبادات میں انڈیا سے لیبر ضرور لیکر گیا ہے چاہے وہ ساؤتھ افریقہ ہو یا یوگنڈا، کینیڈا یا آسٹریلیا. اسی طرح برما میں بھی skilled اور سستی labour کی کمی کو انڈیا سے افرادی قوت لا کر پورا کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں مسلمان بھی شامل تھے. یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کے قبضے سے پہلے جو مسلمان برما یا اراکان میں مقیم ہوے وہ اپنی کم تعداد کی وجہ سے مقامی لوگوں میں گھل مل گئے. ہندو پوری طرح بدھ مت کے ماننے والوں میں مد غم ہو گئے جبکہ مسلمانوں نے اپنی مذہبی تشخص کو قائم رکھا.
لیکن برطانوی راج کے دوران اتنے برے پیمانے پر ہجرت ہوئی کہ حدوستانی مسلمانوں کو اپنی ثقافت چھوڑنے کی ضرورت نہیں پر اور انھوں نے اپنا علیحدہ تشخص برقرار رکھا.

یہ بات بھی یاد رہی کہ ١٨٢٤ سے ١٩٣٧ تک ایک صدی سے زائد کے عرصے میں برما برٹش انڈیا کا ہی ایک حصہ تھا اور انڈیا سے برما اور ارکان کے دوسرے علاقوں میں نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں تھی. جیکوئس لیڈر کے مطابق برطانوی راج کے زمانے میں بڑی تعداد میں برمی  اراکان منتقل ہوے اور اس سے زیادہ چٹا کانگ کے بنگالی ارکان منتقل ہوے. یعنی اراکان میں آبادی دونوں جانب سے بڑھی.

لیکن یہ بھی یاد رہے کہ 1948 میں برما کی آزادی کے وقت یہ برما کی سر زمین سے پہلے آباد تھے اور برما کی زمینوں کو آباد کرنے میں انکا بہت بڑا حصہ ہے کیونکے انگریزی قبضے کے بعد ہی برما کی چاول کاشت کو انگریزوں نے ایک تجارتی اور ایکسپورٹ کموڈیٹی کے طور پر ترقی دی اور بے آباد زمینوں کو آباد کرنے کے لئے ہی بڑی تعداد میں بنگالیوں کو یہاں بسایا.

یہ نکتہ بھی قابل زکر ہے کہ بنگالیوں کے علاوہ بھی انگریز بہت بڑی تعداد میں ہندوستان سے ہندؤں، مسلمانوں اور عیسایوں کو انتظامی عھدوں ، کلرکوں، قلیوں اور ریلوے ورکرز کے طور پر برما لیا مگر یہ سب زیادہ تر شہری علاقوں میں مقیم ہوے. اسکے علاوہ ہندوستان کے مسلمان تاجر بھی برتعداد میں برما منتقل ہوے. رنگون میں اس دور میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے تعلیمی ادارے، کلبز، یہاں تک کے ہسپتال قائم ہوے.

برما کی تاریخ کا ایک اہم موڑ دوسری جنگ عظیم میں برما پر جاپانی قبضہ ہے جس کے اثرات آج بھی ارکان کے لئے تباہ کن ہیں. اس قبضے کے دوران مرکزی برما میں بدھسٹ برمیوں نے جاپانیوں کا ساتھ دیا. جاپانیوں نے انگریزوں کے خلاف برمی ملیشیا تشکیل دیں. سوچی کا باپ آنگ سانگ ان ملیشیاؤں کی قیادت کر رہا تھا. اسی نے انکے برمی لبریشن آرمی کی بنیاد ڈالی جسکا نعرہ تھا کے برما صرف برمیوں کے لئے ہے. ان ملیشیاؤں نے پہلا کام یہ کیا کے برما میں موجود ہندوستانی مسلمانوں، ہندووں اور عیسائیوں پر حملے شروع کے جسکے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ان اقلیتوں کو ہندوستان کی طرف بھاگنا پڑا.

جنگ عظیم کے شروع میں ارکان کے صوبے میں بدھ مت اور مسلمانوں کے درمیان کوئی تنازع نہیں تھا لیکن ١٩٤٢ میں آنگ سانگ کی قیادت میں برمی فوج ارکان پہنچیں اور انھوں نے نفرت انگیز تقریروں کے ذریعہ انگریز کا ساتھ دینے والے اراکانی مسلمانوں اور ہندو اقلیتوں کے خلاف بھڑکایا. اراکان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بدھوں نے بڑی تعداد میں مسلمانوں کے خلاف پر تشدد کاروایاں کیں. جیکوئس لیڈر کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے دوران برما اور ارکان سے پانچ لاکھ ہندوستا نیوں نے بنگال اور انڈیا کا رخ کیا. آج اس واقعہ کو اسی سال کا عرصہ ہو گیا لیکن سوچی کے باپ کی قائم کردہ برمی ملٹری کی انسانیت سوز کاروایوں اور اسکے نتیجے میں ہجرت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا.


یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جاپانیوں کے ہتھیار ڈالتے ہی انگ سانگ کے باپ نے اپنی وفاداریاں تبدیل کر لیں اور انگریزوں کے قدموں میں جا بیٹھا. آج انکی بیٹی اگر یہ دعوا کرتی ہیں کے برمی ملٹری کی بنیاد انکے باپ نے رکھی تو ہم انسے اپنے باپ کی تشکیل دی ہوئی فوج  کے ١٩٤٢ کے مشن کو پورا کرنے کے علاوہ اور کیا توقع کر سکتے ہیں؟؟ جسکے مطابق برما پر صرف برمی بدھوں کا حق تھا.

روہنگیا کی حالیہ Genocide میں انگریزی راج کا کردار

آج جو خون خرابہ اور انسانیت سوز مظالم اراکان میں چالیس سال سے جاری ہے، جس کو دہرانے کے نہ مجھ میں ہمت ہے نہ غالباً اسکی ضرورت. بتول کا قاری سوشل میڈیا کے ذریعے اس سے بہتر طور پر آگاہ ہے، اسکا ایک بڑا مجرم انگریز بھی ہے.

یہ بے بس اور بے وطن لوگ جن کے آباء اجداد کی اکثریت انگریز دور میں آج سے ڈیڑھ دو صدیوں پیشتر ارکان میں مزدوری کرنے کے لئے اراکان منتقل ہوئی انہوں نے دوسری جنگ عظیم میں برما کے بدھوں کے برعکس جاپان کا ساتھ دینے کے بجائے انگریز کا ساتھ دیا. پاکستان کی جدو جہد کے دوران انکا یہی مطالبہ تھا کہ کہ مسلم اکثریت والے شمالی ارکان کو مشرقی پاکستان کا حصہ بنا دیا جائے.

قارئین کو یہ بھی بتا دین کہ سن ١٩٠٩ میں ہی برما میں مسلم لیگ کی شاخ قائم ہو گئی تھی اور ہندوستانی مسلمان سیاسی اور سماجی طور پر سرگرم تھے. اراکان کے مسلمانوں میں برما کے دوسرے علاقوں کے مسلمانوں کے مقابلے میں خواندگی کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی اور غالباً اسی وجہ سے سیاسی شعور اور لیڈر شپ بھی موجود نہ تھی جو آج بھی نظر نہیں آتی. اقوام متحدہ نے روہنگیا بحران کو ٹیکسٹ بک کیس آف Ethnic Cleansing کا نام دیا ہے. راقم کو یہ صدیوں کی غفلت کا بھی ٹیکسٹ بک کیس محسوس ہوتا ہے.

انگریز نے یہ جانتے بوجھتے کے برما کے بدھسٹ ہندوستانیوں اور بنگالیوں کے خلاف شدید نفرت اور تعصب رکھتے ہیں مایو کے علاقے کو قدرتی طور پر بنگال سے متصل ہونے کے باوجود پاکستان کا حصہ بنانے کے بجائے برما کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا. آج کشمیری مسلمانوں کی طرح، روہنگیا مسلمانوں کا خون بھی انگریز بھی براہ راست کی گردن پر ہے. اور اس Genocide کی بلا واسطہ ذمہ داری بھی انگریزی نو آبادیاتی پالیسیوں پر آتی ہے.

روہنگیا بحران کی کوریج میں عالمی اداروں، مغربی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کردار 
ا س میں کوئی شک نہیں کہ روہنگیا مسئلہ کو انٹرنیشنل میڈیا اور حقوق انسانی کی عالمی تنظیمیں ہی دنیا کے سامنے لیکر آئیں ورنہ برما کے روہنگیا تو درکنار پوری مسلم دنیا کی آواز نہ ہونے کے برابر ہے. مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ برما کی حکومت کی طرح انٹرنیشنل میڈیا یہاں تک کے حقوق انسانی کی عالمی تنظیمیں حالیہ تشدد کی لہر کی دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈ اؤن کے طور پر تصویرکشی کر رہے ہیں. اگست کے اواخر میں بحران شروع ہونے کے بعد انٹرنیشنل میڈیا کی جتنی بھی رپورٹس سامنے آئیں وہ ابتدا ہی میں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتی ہیں کہ روہنگیا ملیشیا کے باغیوں نے ٢٥ سے زائد پولیس اسٹیشنز پر حملہ کر کے ١٢ پولیس افسران کو ہلاک کر دیا جسکے بعد برمی فوج نے دہشتگردوں کے خلاف کریک داؤن شروع کیا اور اسکے نتیجے میں روہنگیا کمیونٹی کو بڑی تعداد میں اپنے گھروں کو چھوڑنا پڑا. یہ بات تواتر کے ساتھ بغیر سورس کا ذکر کے دہرائی گئی ہے جو بین الاقوامی صحافتی اصولوں کے خلاف ہے.

ایک طرف باغیوں کے پولیس سٹیشن پر حملے اور ١٢ پولیس اہل کاروں کی ہلاکت کو نہتے روہنگیا عوام کے خلاف فوجی آپریشن کے جواز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف برمی حکومت کا یہ موقف ہے کہ یہ مسلمان دہشت گرد (جنھیں برمی حکومت تحقیر سے بنگالی کا نام دیتی ہے) خود اپنے گھروں کو جلا رہے ہیں اور اپنی مرضی سے ہجرت کر رہے ہیں. اور فوج علاقے کو دہشتگردی سے پاک کرنے کے لئے کاروائی کا حق رکھتی ہے.

اس حوالے سے لندن اسکول آف اکنامکس کے استاد (جو برمی اور بدھسٹ ہونے کے باوجود روہنگیا ایکٹوسٹ ہیں) ڈاکٹرماونگ زارنی کا کہنا ہے کہ ہولوکوسٹ کے دوران ١٩٤٤ میں ایک دفعہ اوشوٹز نامی جرمن کنسنٹریشن کیمپ میں بھی قیدیوں نے بغاوت کی اور چار جرمن گارڈز کو مار ڈالا. دنیا اگر ان قیدیوں کو دہشتگرد نہیں کہتی تو روہنگیا باغیوں کو جو چالیس سال سے مسلسل Genocide کا سامنا کر رہے ہیں دہشتگرد کیوں کہا جا رہا ہے؟

آ نگ سانگ سوچی کا کردار اور ان سے نوبل پیس پرائز اور کینیڈا کی شریت واپس لینے کا مطالبہ

پچھلی کئی دہایوں سے مغربی میڈیا، اقوام متحدہ، یورپین یونین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں آنگ سانگ سوچی کا امیج انسانی حقوق اور جمہوریت کے چمپین کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں. انہیں پاکستان کی ملالہ یوسف زئی کی طرح مغربی میڈیا کی ڈارلنگ کا درجہ حاصل رہا ہے. انہیں اقتدار میں لانے کے لئے اقوام متحدہ اور یوروپین یونین سے لیکر نوبل پرائز کمیٹی تک سب نے اپنا وزن ڈالا ہے. 2015 میں بدترین فسادات کے دوران ہارورڈ یونیورسٹی نے انھیں خطاب کے لئے مدعو کیا. یہ جاننے کے باوجود کے برما میں اسکے اقتدار کے لئے بدھ بھکشو کھلے عام اقلیتوں اور خصوصاً مسلمونوں سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے رہے ہیں اور انکے خلاف تشدد کو بھڑکاتے رہے ہیں. تھائی لینڈ کے ایک اخبار New Eastern Look کے مطابق برما کی سیاست پر سطحی نظر رکھنے والا بھی جان سکتا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ آج جو کچھ بھی ہو رہا وہ وہ نہ صرف predictable یعنی قآبل پیشنگوئی تھا بلکہ آنگ سانگ سوچی کے اقتدار میں آنے کے بعد ناگزیر تھا.

اور یہی دراصل ہوا،  روہنگیا کے خلاف نسل کشی کی سرکاری پالیسیز ١٩٧٨ سے جاری ہیں یعنی انہیں چالیس سال ہو چکے ہیں مگر ہم سب جانتے ہیں کہ ملٹری اقتدار کے مقابلے میں ٢٠١١ میں برما میں جمہوریت بحال ہونے کے بعد روہنگیا کے خلاف تشدد میں کئی گناہ اضافہ ہوا ہے اور اسکی وجہ ظاہر ہے. جس saffron Clan بدھ بھکشوؤں کو مغرب جمہوریت اور امن کے پجاریوں کے طور پر پروموٹ کرتا رہا وہ کھلم کھلا اپنے تعصب، نفرت کا اظہار کرتے رہے تھے.

یہی نہیں برما کے سرکاری میڈیا کو جو دنیا بھر میں روہنگیا کاز کی مخالفت کر رہا ہے، ان مظلوم و مجبور انسانوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند ثابت کر رہا ہے اسکی تربیت بھی امریکی اور یوروپی اداروں بھاری فنڈنگ سے کی ہے.

مغرب کے تحقیقی اداروں میں روہنگیا انسانی المیہ پر تحقیق 
اسکے ساتھ ساتھ مغرب کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں یہ تحقیق بھی پورے خلوص سے جاری ہے کے جو کچھ ہو رہا ہے وہ Genocide کے زمرے میں آتا ہے یا Ethnic Cleansing کے جو Genocide کے مقابلے میں انسانیت کے خلاف تھوڑا چھوٹا جرم ہے. اور یہ بات بھی واضح ہے کہ تقریباً ہر ادارے کی تحقیق کا نتیجہ یہی نکلا ہے کہ روہنگیا کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ برمی آرمی کی پوری قوت کو استمعال کر کے اسٹیٹ سپانسرڈ نسل کشی یعنی ایک قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی واردات ہے جو ساری دنیا کی نظروں کے عین سامنے بڑے اطمینان سے جاری ہے.

برما کی حکومت کو یہ اطمینان ہے کے جس ہولوکوسٹ کو انھوں نے پورے اطمینان سے عالمی اداروں کی ناک کے نیچے جاری رکھا ہوا هے کوئی امریکی فوج یا اسلامی ناٹو اس ہولوکوسٹ کو روکنے کے لئے برما کی سر زمین پر نہیں اتریں گی. اسکے جرائم کے خلاف کبھی نیورمبرگ ٹرائل نہیں ہو گا.

ہمارا کردار 

مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے پاس ان اداروں  سے درخواستیں کر نے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے کہ آنگ سانگ سوچی ہی اس قتل عام کو روک سکتی ہے. ارے کوئی ہے جو اس سے انسانی حقوق کی چیمپین عورت سے نوبل پیس پرائز واپس لے لے؟ جیسے نوبل پیس پرائز واپس لینے سے روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے ختم ہو جائیں گے. انکا قتل عام بند ہو جائے گا. وہ اپنے گھروں کو پلٹ جائیں گے اور اطمینان سے زندگی گزارنا شروع کر دین گے. مسلمانوں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا فی الوقت اتنا فقدان ہے کہ ہم مغربی میڈیا کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چل رہے ہیں. معذرت کے ساتھ کہوں گی کے دینی طبقات کا بھی یہی حال ہے. بصیرت کی کمی ہی نہیں صدیوں کے رٹے کی عادت نے ہمارے ذہنوں کو بری طرح مفلوج کر رکھا ہے. 




اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں پر برمی حکومت اور ملٹری کے ظلم و ستم کو Text Book Case of Ethnic Cleansing کا نام دیا ہے. اس سے قبل انہیں Most Persecuted Ethnic Minority in theWorld کا ٹائٹل بھی مل چکا ہے. بظاہر یہ ان مظلوم و محقور اور پسے ہوے مسلمانوں کے حق میں اٹھنے والی آواز کی کامیابی ہے لیکن اس سے انکی اصل حالت میں کتنی تبدیلی آئے گی یہ ہم سب جانتے ہیں. میرا کہنا یہ ہے کہ تقریباً تین ملین کی اس کمیونٹی میں جوعالمی میڈیا کی مختلف رپورٹس کے مطابق ایک ملین سے زائد برما کے صوبے اراکان کے شمالی علاقے میں، سات لاکھ سے زائد سے بنگلادیش میں ، پانچ لاکھ سے زائد پاکستان میں اور چار لاکھ سے زائد سعودی عرب میں مقیم ہیں، انکی اپنی ذاتی آواز انٹرنشنل میڈیا اور اکیڈمیا میں کتنی ہے. انکی اپنی صفوں میں انکے حق میں بولنے والے اور مسلم دنیا میں انکے مسئلے کو بیان کرنے والے کتنے ہیں؟

پوری مسلم دنیا میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی اصطلاحات کو سمجھ کر اس مسئلے کی پہلوؤں کو بیان کرنے کی صلاحیت کتنے لوگوں میں ہے؟ 


برما کی حکومت نے ١٩٨٢ میں روہنگیا کمیونٹی کی شہریت کینسل کر دی تھی اور انہیں دی جانے والی سرکاری سہولتیں بھی جن میں اسکول اور طبی سہولتیں بھی شامل تھے ان سے محروم مگر کیا اس ملینز پر مشتمل اس مظلوم کمیونٹی کے بچوں کے لئے کوئی دوسرا اسلامی ملک بھی اسکول کی تعلیم کا بندو بست نہ کر سکتا تھا؟ میری ذاتی معلومات میں یہ بات ہے کہ جماعت اسلامی اپنے ادارے الخدمت کے ذریعے نا مساعد حالت میں بھی وقتاً فوقتاً برما کے مسلمانوں کو امداد پہنچاتی رہی ہے. کیا ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ اس نے وہاں کے بچوں کی تعلیم کے لئے بھی حتیٰ المقدور کوئی انتظام کیا ہو گا؟ مگر ظاہر ہے یہ کسی ایک NGO کے بس کی بات نہیں. سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کے چیمپین ملک پاکستان اور سعودی عرب نے پچھلے ستر سال میں یعنی ١٩٤٨ میں برما کی آزادی کے بعد سے ان مظلوموں کے لئے کیا کیا؟؟

ایک اور سوال جو ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ کے روہنگیا حقوق کے لئے سرگرم ایک بدھسٹ ایکٹوسٹ کے مطابق ١٩٧٨ سے برما کی ملٹری genocide کی یہ پالیسیاں اپنائے ہوۓ ہے لیکن پاکستانی پریس اور میڈیا میں ٢٠١١-١٢ سے پہلے ہم نے شاید ہی کبھی روہنگیا یا ارکان کا نام کبھی سنا ہو. میں نے اس کمیونٹی کا نام پہلی مرتبہ قاضی حسین احمد کی زبان سے کاروان دعوت و محبت کی آڈیو کیسٹ میں ١٩٨٨ کے مئی یا جون میں سنا. ایک آرٹیکل ترجمان یا غالباً ارتقاء میں پڑھا.  ٢٠١١ سے قبل پاکستان کے پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا میں کسی صحافی کا کوئی کالم یا تلک شو اس مسئلے پر کم از کم میری نظر سے نہیں گزرا.

کیا  Ethnic Cleansing سے زیادہ یہ صدیوں کی غفلت کا ٹیکسٹ بک کیس نہیں ہے؟ اور یہ سب ایک ایسے مذھب کے مانے والوں کا حال ہے جنکے رہنماص جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کے بجائے یا بھاری فدیہ لے کر چھوڑنے کے بجائے انسے کہتا ہے کہ اگر تم ہمارے کچھ آدمیوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھا دو تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے. کیا علم کے حصول کی اس قدر اہمیت ہمیں کسی اور مذھب میں ملتی ہے؟ یہ اس مذھب کے ماننے والوں کا حال ہے جن کے پروردگار کا پہلا حکم ہے “پڑھ” . جس قوم پر وحی کا پہلا لفظ اقرا ٔ ہے اس قوم کے علماء اپنے ماننے والوں کو کہتے ہیں کے فرض تو صرف دین کا علم ہے. باقی دنیا کا علم فرض نہیں، آپشنل ہے. اس قوم کا آج حال یہ ہے کے انکو باقی دنیا کی تو دور کی بات اپنی بھی خبر نہیں. پچھلے دو تین سو سال میں مسلم دنیا کے بارے میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے اسکا ٩٩.٩٩ فیصد مغرب میں لکھا جا رہا ہے. برما کے بارے میں ریسرچ کرنے پر اسکے مسلمانوں کی تاریخ پر مجھے سب سے زیادہ تفصیلی کتاب ایک اسرائیلی مصنف کی ملی جو رنگون کی اسرائیلی ایمبیسی میں ملازم تھا اور اپنے ایم اے MA کے تھیسز کے طور پر اس نے برما کے مسلمانوں پر تحقیقی مقالہ لکھا. اس کتاب کو پڑھ کر جو چیز شدت سے محسوس ہوتی ہے وہ یہ اسرائیل جیسے ملک کو جسے دنیا مسلم مخالف ملک سمجھتی ہے مسلمانوں پر کتابیں لکھنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن پاکستان کی یونیورسٹیوں میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے کے کوئی برما کے مسلمانوں پر تحقیق کرنا چاہے گا. اسکے علاوہ مجھے اسرائیل کے ایم اے کے معیار کا بھی اندازہ ہوا. اس نوعیت کی ریسرچ ہمارے ہاں پی ایچ ڈی طلبہ بھی نہیں کرتے. خیر یہ ایک جملہ معترضہ تھا.

مگر آج اراکان کے مسلمان جس صورتحال کا شکار ہیں اور مسلمانوں میں کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو انکے مسئلے کے حل کے لئے موثر آواز اٹھا سکے تو اس میں صدیوں کی غفلت اور جہالت کا بہت ہاتھ ہے لیکن ہم آج بھی اپنے رویہ پر نظر ثانی کرنے پر تیار نہیں. 


گو اقوام متحدہ اسے ایتھنک کلینزنگ قرار دے رہی ہے جو Genocide کے مقابلے میں انسانیت کے خلاف چھوٹا جرم ہے مگر انسانی حقوق کی تنظیمیں، تحقیقی ادارے اور عالمی میڈیا سب اس بات پر متفق ہیں کہ روہنگیا کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اقوام متحدہ کے روم کنونشن اور 1948 Genocide Charter کے تحت جینو سائڈ ہے یعنی روہنگیا کو ایک قوم کے طور پر صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی کوشش ہے جو انسانیت کے خلاف سب سے بڑا جرم مانا جاتا ہے. لیکن سوال یہ ہے کہ اس بات کومحض تسلیم کرنے سے کیا حاصل ہو گا؟

لندن اسکول آف اکنامکس میں پڑھانے والے انسانی حقوق اور Genocide پر ایکسپرٹ ایک برمی بدھسٹ روہنگیا ایکٹوسٹ
کا کہنا ہے کہ روہنگیا اس وقت یہودیوں کی طرح ہولوکوسٹ کا سامنا کر رہے ہیں، وہ غزہ کے فلسطینوں کی طرح Open Air Prisioners میں زندگی گزار رہے ہیں، وہ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے اوشوٹز اور برکناؤ جیسے کنسنٹریشن کیمپس میں اپنی موت کا انتظار کر رہے ہیں، برما میں انہیں ساؤتھ افریقہ اور جنوبی کنارے کے فلسطینوں کی طرح Aparhied Regime کا سامنا ہے.

اس بحران کا اصل اور دیر پا حل
یہ سب انسانیت کے خلاف جرائم ہیں. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انکا حال کیا ہے. مسلم امدادی ایجنسیاں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بنگلادیش میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کو غذا اور بنیادی سہولتیں پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں. ترکی نے بنگلادیش سے درخواست کی ہے کے وہ اپنے دروازے روہنگیا کے لئے کھولے انکا خرچہ ترکی اٹھائے گا. لیکن چار لاکھ افراد کو محض ایک وقت کا کھانا کھلانا ابھی آسان کام نہیں. بنگلدیشی کیمپوں سے آنے والی وڈیوز سے صاف ظاہر ہے کہ روہنگیا پناہ گزین بھوک سے تڑپ رہے ہیں، انکی بنیادی احتیاجات، بچوں کی تعلیم تو بہت دور کی بات ہے.

یہ بھی یاد رہے کہ یہ پہلی دفعہ نہیں کے روہنگیا لاکھوں کی تعداد میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر دنیا میں در بدر پھر رہے ہیں. بنگلادیش کے علاوہ پاکستان، سعودی عرب، تھائی لینڈ، ملیشیا میں ایک ملین سے زائد روہنگیا موجود ہیں.

تیل کی دولت سے مالا مال اسلامی ممالک کے ساتھ پاکستان بھی عملی طور پر خاموشی اختیار کے ہوے ہے.

ایسے میں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی دینی تنظیمیں روہنگیا پناہ گزینوں کے لئے فنڈ جمع کر رہی ہیں اور مسلمانوں سے دواؤں کی اپیل بھی کر رہی ہیں جو کے اپنی جگہ ایک مستحسن عمل ہے. اسکے علاوہ دنیا کے ہر خطے میں روہنگیا کے ساتھ solidarity کے اظہار کے لئے مظاہرے بھی ہو رہے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے جو پتہ نہیں کسی کو نظر نہیں آ رہی یا مصلحتاً اس پر بولنے میں کوئی رکاوٹ حائل ہے کہ یہ دعائیں، غیر سگالی جلسے اور فیس بک پوسٹس یہاں تک کے امداد بھی short term حل تو ہیں لیکن اس مسئلے کا کوئی دیرپا حل نہیں.

اسکا حل صرف اور صرف بوسنیا اور کوسووو کی طرح پیس ٹروپس برما بھیجنا ہے اور ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان کی طرح روہنگیا کو ایک علیحدہ ملک دینا ہے. اسکے بعد نیورمبرگ ٹرائل کی طرح برمی حکومت اور ملٹری کو عدالت میں لانا بھی ہےتاکہ انکو انسانیت کے خلاف انکے جرائم کی سزا مل سکے.

بظاہر روہنگیا مسلمانوں کے لئے الگ ریاست کا قیام نا قابل عمل نظر آتا ہے مگر دیکھا جائے تو اسکے علاوہ کوئی دیرپا حل موجود ہی نہیں. اقوام متحدہ، امریکی حکومت، انسانی حقوق کی تنظیمیں، عالمی میڈیا یہاں تک کے مسلمانوں کی دینی تنظیمیں اور ویٹیکن میں پوپ بھیروہنگیا کی مظلومیت کا رونا رو رہے ہیں مگر اصل حل کی بات کوئی نہیں کر رہا.

اس بحران کے جیو پولیٹیکل پہلو بھی ہیں. برما میں تیل اور گیس کے ذخائر، چین اور ہنوستان کے انفرا اسٹرکچر پروجیکٹس کی مصلحتیں چین اور ہندوستان کو اپنا وزن برمی حکومت کے حق میں ڈالنے پر مجبور کر رہی ہیں. اس طرح یہ طاقتیں بھی انسانیت کے خھلاف جرائم میں شریک ہیں. مسلم ممالک کی خاموشی انہیں بھی مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے. عالمی سیاست کے مہرے ہلانے والے اس بحران کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے روہنگیا بحران کا استحصال کرنے کے لئے تیار ہیں. ایسے میں ہم مسلمانوں کو کم از کم مطالبات کی حد تک  روہنگیا کے لئے ایک علیحدہ وطن کا قیام کی بات کرنی چاہیے ورنہ انکا حال وہ ہو گا


بر گزارے ماں غریباں
نے چراغے نے گلے

اخوت اس کوکہتےہیں چبھےکانٹاجو “برما” میں 
تو ” امت” کا ہر اک پیر و جواں بیدار ہو جائے

 

Advertisements
Image | Posted on by | Leave a comment

I am a forgotten Jew.

I am a forgotten Jew.

My roots are nearly 2,600 years old, my ancestors made landmark contributions to world civilization, and my presence was felt from North Africa to the Fertile Crescent — but I barely exist today. You see, I am a Jew from the Arab world. No, that’s not entirely accurate. I’ve fallen into a semantic trap. I predated the Arab conquest in just about every country in which I lived. When Arab invaders conquered North Africa, for example, I had already been present there for more than six centuries.

Today, you cannot find a trace of me in most of this vast region.

Try seeking me out in Iraq.

Remember the Babylonian exile from ancient Judea, following the destruction of the First Temple in 586 BCE? Remember the vibrant Jewish community that emerged there and produced the Babylonian Talmud?

Do you know that in the ninth century, under Muslim rule, we Jews in Iraq were forced to wear a distinctive yellow patch on our clothing — a precursor of the infamous Nazi yellow badge — and faced other discriminatory measures? Or that in the eleventh and fourteenth centuries, we faced onerous taxes, the destruction of several synagogues, and severe repression?

And I wonder if you have ever heard of the Farhud, the breakdown of law and order, in Baghdad in June 1941. As an AJC specialist, George Gruen,reported:

“In a spasm of uncontrolled violence, between 170 and 180 Jews were killed, more than 900 were wounded, and 14,500 Jews sustained material losses through the looting or destruction of their stores and homes. Although the government eventually restored order… Jews were squeezed out of government employment, limited in schools, and subjected to imprisonment, heavy fines, or sequestration of their property on the flimsiest of charges of being connected to either or both of the two banned movements. Indeed, Communism and Zionism were frequently equated in the statutes. In Iraq the mere receipt of a letter from a Jew in Palestine [pre-1948] was sufficient to bring about arrest and loss of property.”

At our peak, we were 135,000 Jews in 1948, and we were a vitally important factor in virtually every aspect of Iraqi society. To illustrate our role, here is what the Encyclopedia Judaica wrote about Iraqi Jewry: “During the 20th century, Jewish intellectuals, authors, and poets made an important contribution to the Arabic language and literature by writing books and numerous essays.”

By 1950 other Iraqi Jews and I were faced with the revocation of citizenship, seizure of assets, and, most ominously, public hangings. A year earlier, Iraqi Prime Minister Nuri Sa’id had told the British ambassador in Amman of a plan to expel the entire Jewish community and place us at Jordan’s doorstep. The ambassador later recounted the episode in a memoir entitled From the Wings: Amman Memoirs, 1947-1951.

Miraculously, in 1951 about 100,000 of us got out, thanks to the extraordinary help of Israel, but with little more than the clothes on our backs. The Israelis dubbed the rescue Operation Ezra and Nehemiah.

Those of us who stayed lived in perpetual fear — fear of violence and more public hangings, as occurred on January 27, 1969, when nine Jews were hanged in the center of Baghdad on trumped-up charges, while hundreds of thousands of Iraqis wildly cheered the executions. The rest of us got out one way or another, including friends of mine who found safety in Iran when it was ruled by the Shah.

Now there are no Jews left to speak of, nor are there monuments, museums, or other reminders of our presence on Iraqi soil for twenty-six centuries.

Do the textbooks used in Iraqi schools today refer to our one-time presence, to our positive contribution to the evolution of Iraqi society and culture? Not a chance. 2,600 years are erased, wiped out, as if they never happened. Can you put yourself in my shoes and feel the excruciating pain of loss and invisibility?

I am a forgotten Jew.

I was first settled in what is present-day Libya by the Egyptian ruler Ptolemy Lagos (323-282 BCE), according to the first-century Jewish historian Josephus. My forefathers and foremothers lived continuously on this soil for more than two millennia, our numbers bolstered by Berbers who converted to Judaism, Spanish and Portuguese Jews fleeing the Inquisition, and Italian Jews crossing the Mediterranean.

I was confronted with the anti-Jewish legislation of the occupying Italian Fascists. I endured the incarceration of 2,600 fellow Jews in an Axis-run camp in 1942. I survived the deportation of 200 fellow Jews to Italy the same year. I coped with forced labor in Libya during the war. I witnessed Muslim rioting in 1945 and 1948 that left nearly 150 Libyan Jews dead, hundreds injured, and thousands homeless.

I watched with uncertainty as Libya became an independent country in 1951. I wondered what would happen to those 6,000 of us still there, the remnant of the 39,000 Jews who had formed this once-proud community — that is, until the rioting sent people packing, many headed for the newly established State of Israel.

The good news was that there were constitutional protections for minority groups in the newly established Libyan nation. The bad news was that they were completely ignored.

Within ten years of my native country’s independence, I could not vote, hold public office, serve in the army, obtain a passport, purchase new property, acquire majority ownership in any new business, or participate in the supervision of our community’s affairs.

By June 1967 the die was cast. Those of us who had remained, hoping against hope that things would improve in a land to which we were deeply attached and which, at times, had been good to us, had no choice but to flee. The Six-Day War created an explosive atmosphere in the streets. Eighteen Jews were killed, and Jewish-owned homes and shops were burned to the ground.

I and 4,000 other Jews left however we could, most of us with no more than a suitcase and the equivalent of a few dollars.

I was never allowed to return. I never recovered the assets I had left behind in Libya, despite promises by the government. In effect, it was all stolen — the homes, furniture, shops, communal institutions, you name it. Still worse, I was never able to visit the grave sites of my relatives. That hurt especially deeply. In fact, I was told that, under Colonel Qaddhafi, who seized power in 1969, the Jewish cemeteries were bulldozed and the headstones used for road building.

I am a forgotten Jew.

My experience — the good and the bad — lives on in my memory, and I’ll do my best to transmit it to my children and grandchildren, but how much can they absorb? How much can they identify with a culture that seems like a relic of a distant past that appears increasingly remote and intangible? True, a few books and articles on my history have been written, but— and here I’m being generous — they are far from best-sellers.

In any case, can these books compete with the systematic attempt by Libyan leaders to expunge any trace of my presence over two millennia? Can these books compete with a world that paid virtually no attention to the end of my existence?

Take a look at The New York Times index for 1967, and you’ll see for yourself how the newspaper of record covered the tragic demise of an ancient community. I can save you the trouble of looking — just a few paltry lines were all the story got.

I am a forgotten Jew.

I am one of hundreds of thousands of Jews who once lived in countries like Iraq and Libya. All told, we numbered close to 900,000 in 1948. Today we are fewer than 5,000, mostly concentrated in two moderate countries—Morocco and Tunisia.

We were once vibrant communities in Aden, Algeria, Egypt, Lebanon, Syria, Yemen, and other nations, with roots dating back literally 2,000 years and more. Now we are next to none.

Why does no one speak of us and our story? Why does the world relentlessly, obsessively speak of the Palestinian refugees from the 1948 and 1967 wars in the Middle East — who, not unimportantly, were displaced by wars launched by their own Arab brethren — but totally ignore the Jewish refugees from the 1948 and 1967 wars?

Why is the world left with the impression that there’s only one refugee population from the Arab-Israeli conflict, or, more precisely, the Arab conflict with Israel, when, in fact, there are two refugee populations, and our numbers were somewhat larger than the Palestinians?

I’ve spent many sleepless nights trying to understand this injustice.

Should I blame myself?

Perhaps we Jews from Arab countries accepted our fate too passively. Perhaps we failed to seize the opportunity to tell our story. Look at the Jews of Europe. They turned to articles, books, poems, plays, paintings, and film to recount their story. They depicted the periods of joy and the periods of tragedy, and they did it in a way that captured the imagination of many non-Jews. Perhaps I was too fatalistic, too shell-shocked, too uncertain of my artistic or literary talents.

But that can’t be the only reason for my unsought status as a forgotten Jew. It’s not that I haven’t tried to make at least some noise; I have. I’ve organized gatherings and petitions, arranged exhibitions, appealed to the United Nations, and met with officials from just about every Western government. But somehow it all seems to add up to less than the sum of its parts. No, that’s still being too kind. The truth is, it has pretty much fallen on deaf ears.

You know that acronym — MEGO? It means “My eyes glazed over.” That’s the impression I often have when I’ve tried raising the subject of the Jews from Arab lands with diplomats, elected officials, and journalists — their eyes glaze over (TEGO).

No, I shouldn’t be blaming myself, though I could always be doing more for the sake of history and justice.

There’s actually a far more important explanatory factor.

We Jews from the Arab world picked up the pieces of our shattered lives after our hurried departures — in the wake of intimidation, violence, and discrimination — and moved on.

Most of us went to Israel, where we were welcomed. The years following our arrival weren’t always easy — we started at the bottom and had to work our way up. We came with varying levels of education and little in the way of tangible assets. But we had something more to sustain us through the difficult process of adjustment and acculturation: our immeasurable pride as Jews, our deeply rooted faith, our cherished rabbis and customs, and our commitment to Israel’s survival and well-being.

Some of us — somewhere between one-fourth and one-third of the total — chose to go elsewhere.

Jews from the French-speaking Arab countries gravitated toward France and Quebec. Jews from Libya created communities in Rome and Milan. Egyptian and Lebanese Jews were sprinkled throughout Europe and North America, and a few resettled in Brazil. Syrian Jews immigrated to the United States, especially New York, as well as to Mexico City and Panama City. And on it went.

Wherever we settled, we put our shoulder to the wheel and created new lives. We learned the local language if we didn’t already know it, found jobs, sent our children to school, and, as soon as we could, built our own congregations to preserve the rites and rituals that were distinctive to our tradition.

I would never underestimate the difficulties or overlook those who, for reasons of age or ill health or poverty, couldn’t make it, but, by and large, in a short time we have taken giant steps, whether in Israel or elsewhere.

I may be a forgotten Jew, but my voice will not remain silent. It cannot, for if it does, it becomes an accomplice to historical denial and revisionism.

I will speak out because I will not allow the Arab conflict with Israel to be defined unfairly through the prism of one refugee population only, the Palestinian.

I will speak out because what happened to me is now being done, with eerie familiarity, to another minority group in the region, the Christians, and once again I see the world averting its eyes, as if denial ever solved anything.

I will speak out because I refuse to be a forgotten Jew.

Image | Posted on by | Leave a comment

ہوم سکولنگ: کم خرچ بالا نشیں حصہ دوئم

ہوم سکولنگ: کم خرچ بالا نشیں حصہ دوئم 

ہوم سکولنگ پر اپنے پچھلے مضمون میں ہم نے عرض کیا تھا کہ اسکول  سسٹم ناگزیر نہیں لیکن یہ عقیدہ ہمارے دماغوں میں راسخ ہو چکا ہے کہ بچے کی تعلیم اس کے بغیر ممکن  نہیں. ہم نے سکول سسٹم کے ایک متبادل ہوم سکولنگ سسٹم کی ماضی اور حال کی کچھ کامیاب مثالیں آپکے سامنے رکھی تھیں. اس سے کوئی یہ تاثر نہ لے کہ ہوم اسکولنگ کوئی پرفیکٹ یا ناگزیر نظام  ہے. اسکول سسٹم کی طرح اس میں بھی خامیاں اور خوبیاں ہو سکتی ہیں. اس مضمون کے رد عمل میں بیشمار آرأ موصول ہوئیں.  بیشتر نے اس سسٹم کو سراہا مگر اسکے خلاف بھی دلا ئل دیئے گئے.    کچھ لوگوں نے اس موضوع پر مزید رہنمائی اور تجا ویز کی بھی فرمائش کی.

لوگوں نے اسے  پسند کرنے کے باوجود کچھ ایسی رکاوٹوں کا  تذکرہ کیا جو اسے اپنانے میں مانع ہوتی ہیں مثلاً  دونوں والدین کا ورکنگ ہونا،  چھوٹے گھروں یا جوانٹ فیملی میں رہنے کی وجہ سے پڑھائی کا ماحول نہ ہونا یا باپ کی ملازمت کی نوعیت یا  ماں کی ذمہ داریاں ایسی ہونا کہ وہ بچوں کی تعلیم کے لئے وقت  نہ نکل سکے. والدین کا اپنا پڑھا لکھا نہ ہونا بھی ظاہر ہے اسے نا قابل عمل بناتا ہے. 

کم آمدنی والے گھرانوں میں گھروں کا چھوٹا ہونا اور کھیل کود اور تفریح کے ذرائع موجود نہ ہونا یا گلی محلے کی خراب صحبت سے بچانے کے لئے بھی والدین کو چھوٹی عمر میں اسکول بھیجنے پر مجبور کر سکتا ہے. یہ صحیح ہے کہ  سکول میں بچے اساتذہ کی مسلسل نگرانی میں ہوتے ہیں مگر وہاں بھی ہر طرح کی صحبت ہوتی ہے جس سے آپکا بچہ اچھے برے اثرات قبول کرتا ہے.

اسکول یقیناً  سوشل انٹریکشن کا بھی ذ ریعہ ہوتے ہیں مگر کیا اسکے بدلے بچے کو اضافی سماجی دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا؟  کچھ لوگوں نے والدین کا پڑھانے کے لئے غیر تربیت یافتہ ہونا بھی ہوم اسکولنگ میں مانع قرار دیا ہے. مگر یہ بھی ذھن میں رہے کہ پاکستان میں  کتنے سکولوں میں تربیت یافتہ ٹیچرس ہیں؟ اور اگر ہیں تو انکا تناسب غیر تربیت یافتہ ٹیچرس کے مقابلے میں کتنا ہے؟ تربیت کی اہمیت سے انکار نہیں مگر ہم پھر کہیں گے کہ ایک ٹرینڈ ٹیچر کے مقابلے میں غیر تربیت یافتہ مگر ذ مہ دار والدین زیادہ بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں. اگر توجہ اور اہمیت کا احساس ہو تو لاتعداد ذرائع سیکھنے کے موجود ہیں. بڑے  شہروں میں ایسی مختصر ورکشاپس کا انعقاد ہوتا رہتا ہے جن کے ذریعہ والدین اس موضوع پر اپنی اپ گریڈنگ کر سکتے ہیں. اسکے علاوہ نیٹ پر ہزاروں سائٹس ایسی موجود ہیں جو ٹیچنگ کی تربیت اور ہوم اسکولنگ سے متعلقہ وسائل مسلسل شئیر کرتی ہیں. ان میں بیشتر کوئی فیس نہیں لیتیں.   بچوں کو پابند کرنے کے لئے گھر میں ٹیوٹر بھی رکھا جا سکتا ہے. پڑھانے کی ذ مہ داری آپکی مگر بٹھا کر کام کروانے کی ٹیوٹر کی.  مشکل مضامین کے لئے بھی ٹیوٹر رکھا جا سکتا ہے. 

ایک دلچسپ چیز جسکی نشاندھی کی گئی وہ یہ کہ بعض والدین سوشل دباؤ کی وجہ سے ہوم اسکولنگ سے گھبراتے ہیں کہ  لوگ کیا کہیں گے. کبھی کبھی محض دکھاوے کی وجہ کی وجہ سے بڑے اور معیاری کہلانے والے اسکول کا انتخاب کیا جاتا ہے کہ چار لوگوں میں عزت بنی رہی. کیا پڑھے لکھے  والدین کو بچوں کے مستقبل سے متعلق اتنے اہم فیصلے محض بھیڑ چال میں آ کر کرنے چاہیں؟ اسکا فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں.

 

بڑے شہروں میں اب ہوم اسکولنگ ایک معروف طریق کار ہے اور اونچے اور متوسط طبقات میں والدین اسے کامیابی سے اپنا رہے ہیں لیکن اسکے لئے ہمّت، استقامت اور شوق     کی ضرورت ہے. ہوم اسکولنگ کروانے والے والدین کے لئے سوشل میڈیا پر لاتعداد کلب موجود ہیں جہاں وہ اپنے مسائل اور وسائل ایک دوسرے سے شئیر کرنے کے علاوہ باقاعدگی سے ایسے پروگراموں کا انعقاد   کرتے ہیں جن میں بچوں کو سوشل انٹریکشن کے علاوہ گروپ پروجیکٹس کے ذریعہ کوآپریٹیو لرننگ کے مواقع بھی ملتے ہیں اور تفریح کے بھی. جیسے جیسے ہوم اسکولنگ کے بارے میں شعور میں اضافہ ہو گا اور لوگ اسے اپنانا شروع کریں گے، چھوٹے شہروں میں بھی ایسے گروپس سوشل میڈیا پر وجود میں آئیں گے. فی الوقت وہ شہر جہاں یہ سہولت موجود نہ ہو انٹرنیٹ پر موجود گروپس سے رابطے میں رہ سکتے ہیں. لیکن اگر ممکن ہو تو اپنی کسی ہم خیال فیملی کو ساتھ ملا کر ہوم اسکولنگ کریں.

ہوم اسکولنگ کسی بھی تعلیمی درجے کے لئے ہو اس کے لئے کچھ ٹارگٹ  متعین کرنے کی ضرورت ہے. ابتدائی سالوں میں اپنے عقائد، ارد گرد کے ماحول، ریاضی کی بنیادی تعلیم کے ساتھ زبان (اردو اور انگریزی دونوں) پر گرفت مضبوط کرنی چاہےاگر یہ گھر پر مجموئی طور پر والدین یا ٹیوٹر  کے ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے تو ہوم اسکولنگ کے بارے میں سوچنے میں کوئی حرج نہیں. واضح رہی انٹرنیٹ کا صحیح استعمال آپکی بہت مدد کرے گا مگر ابتدائی سالوں میں اسکے بغیر بھی اچھے نتائج ممکن ہیں. اسکا غلط استعمال آپکی محنت کو برباد کر سکتا ہے. 

انٹرنیٹ پر بیشمار تعلیمی وسائل والدین اور بچوں کے لئے موجود ہیں مثلاً وڈیو سائٹس پر انگریزی سکھانے والی لاتعداد وڈیوز جنھیں والدین اپنی  اور بچوں کی بول چال بہتر کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں. ریاضی سیکھنے کے لئے ایک امریکی مسلمان سلمان خان کی ویب سائٹ خان اکیڈمی khanacademy.org کو دنیا بھر میں گریڈ زیرو سے لیکر پی ایچ ڈی لیول تک کے طلبہ استعمال کر رہے ہیں. یہاں تک کے کینیڈا امریکا کے پبلک اسکول کے ٹیچر بھی اسے  تجویز کرتے ہیں. اسی سائٹ پر تاریخ اور دوسری سائنسی مضامین پر مواد اور مشقیں بھی موجود ہے. 

چھوٹی عمر سے ہی پیغمبروں کے قصّے ضرور سنائیں اور اسکے بعد صحابہ کے. قرآن کی سورتیں جتنی ممکن ہو سکیں حفظ کروائیں. حافظہ حفظ کرنے سے تیز ہوتا ہے. اسکے لئے بھی انٹرنیٹ سے مدد لی جا سکتی ہے. الہدیٰ ڈاٹ کام (alhuda.com)  پر قران کی تجوید کے سبق جو بچے کو تکرار کے ساتھ قرآن پڑھاتے ہیں فری موجود ہیں. اسکے علاوہ قرآن Quranexplorer.com پر دنیا کے بہترین قاریوں کی تلاوت کچھ اس طرح موجود ہے کہ آپ ایک آیت سے لیکر پوری سوره کو جتنی مرتبہ دہرانا چاہیں مختلف آپشنز کی سیٹنگ کے ذریعہ دھرا سکتے ہیں. 

 

ارد گرد کے ماحول، صفائی، ماحولیات اور حفاظتی اصولوں کی تعلیم بچوں کو روز مرہ کے کاموں کے ساتھ عملی طورپر بھی دی جا سکتی ہے. مثلا ً اگر آپ کچن میں یا گارڈن میں کام کر رہے ہیں تو انہیں اپنی نگرانی میں ان کاموں میں انکی استعداد کے مطابق شریک کریں اور ان امور سے متعلق ہدایات انکے  ذہن میں راسخ کرتے رہیں. بچے اپنی عمر سے بڑا کام کرنے اور سیکھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں. انھیں اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے. پودوں کو پانی دینا، لہسن چھیلنا، میز صاف کرنا، اور کبھی کبھی ہانڈی میں چمچہ چلوانے میں کوئی حرج نہیں. بلکہ ہو سکے تو اپنے ہر کام میں انہیں شریک رکھیں، ان سے چھوٹی چھوٹی باتوں میں مشورہ کریں کہ اس سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا اور ذمہ داری کا احساس بھی بڑھے گا. چھوٹی عمر سے ہی بچے کو آگ اور بجلی کے کرنٹ کے نقصانات کا شعور مثالیں دے کر سمجھائیں اور انسے دور رکھیں.  

 

سب سے زیادہ اہم چیز بچے میں مطالعہ کا شوق پروان چڑھانا ہے اسکے لئے خود بھی مطالعہ کو اپنی عادت بنائیں. چاہے بچہ اسکول میں پڑھے یا نہیں، اگر ایک دفعہ مطالعہ کا شوق بچے کو ہو گیا اور آپ نے اسکی ذہنی سطح کے مطابق مناسب لٹریچر اسکے گرد مھیا کر دیا تو وہ آپکی توقع سے زیادہ تیزی سے نئی باتیں  سیکھے گا. مطالعہ  کے شوق کے لئے ٹی وی اور کارٹونز کو اسکی زندگی میں کم سے کم رکھیں. کمپوٹر کا استعمال رکھیں مگر اس پر ایجوکیشنل گیمز کی عادت ڈالیں.  

 

ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کو ایک سے زیادہ زبانیں سکھانے پر بہت زور دیا جاتا ہے کہ اس سے ذہنی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے مگر مادری زبان کی قیمت پر نہیں. بچے سے اپنی مادری زبان میں بات کریں. یہ آ پکا اثاثہ ہے اسے انگریزی کی بھیڑ  چال میں ضائع نہ کریں. مگرانگریزی زبان بھی ضرور سکھائیں. فی الوقت انگریزی کے ذریعہ آپکا بچہ دنیا کے تمام علوم  اور لٹریچر تک رسائی حاصل کر سکتا ہے. خود بھی اس زبان میں شعوری  طور پر اپنی استعداد بڑھانے کی کوشش کریں. اس غرض کے لئے کسی اچھے رسالے اور اخبار کا پابندی سے مطالعہ کریں.

 

اقبال کی شاعری سے اور اردو زبان سے اپنے بچوں کو ضرور متعارف کروائیں.  بانگ درا میں بچوں کے لئے نظموں کا بہت اچھا کلیکشن ہے جس سے  بچوں کے تخیل کو بھی جلا ملتی ہے شرط یہ ہے کہ اسے معنی کے ساتھ سمجھایا جائے.  کلام اقبال شرح سمیت بھی مل جاتا ہے. جس میں مشکل الفاظ کے معنی  فوٹ نوٹس میں دیئے ہوتے ہیں. اس سے استفادہ کریں.

غیر ملکی کتابوں اور وڈیوز کو ضرور استعمال کریں مگر اس سے پہلے بچے کے ذھن میں یہ  ضرور واضح کریں کہ دنیا میں ہر مذھب، عقیدے اور ثقافت کے لوگ رہتے ہیں. بحیثیت انسان سب کا احترام ہم پر لازم ہے. کسی دوسری قوم سے اچھی باتیں سیکھنے میں کوئی خرابی نہیں مگر ہماری اپنی ایک مذہبی اور ثقافتی شناخت ہے اور اسے ہم سے جدا نہیں ہونا چاہیے. بچے کو اپنی شناخت پر فخر کرنا ضرور سکھائیے ورنہ وہ ہمیشہ کنفیوز رہی گا اور زندگی میں کچھ نہیں کر سکے گا. آپ اسے مطالعہ کا عادی بنا کر خود سیکھنے کی اہلیت اور علم کے حصول کی تڑپ پیدا کرنے کے ساتھ اسے بنیادی اخلاقیات کا فہم دینے میں کامیاب ہو گئے تو آپ کا کم بہت آسان ہو گیا.

ہم پھر کہیں گے والدین اپنے حالات کو دیکھتے ہوئے  خود ہی بہترین فیصلہ کر سکتے ہیں لیکن اصل اہمیت بچے کے کردارسازی، اسکی صلاحیتوں کو نکھارنا اور ایسی عادات پروں چڑھانا ہے جو اسے زندگی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرے. 

Image | Posted on by | Leave a comment

ہوم سکولنگ: کم خرچ بالا نشیں part 2 ver 1

 

 

ہوم سکولنگ: کم خرچ بالا نشیں حصہ دوئم 

ہوم سکولنگ پر اپنے پچھلے مضمون میں ہم نے عرض کیا تھا کہ اسکول  سسٹم ناگزیر نہیں لیکن یہ عقیدے کی طرح ہمارے دماغوں میں راسخ ہو چکا ہے کہ اس کے بغیر گزارا نہیں. ہم نے ہوم اسکولنگ کو ایک متبادل کے طور پر متعارف کروایا تھا اور ماضی اور حال سے کچھ کامیاب مثالیں بھی آپکے سامنے رکھی تھیں. اس سے کوئی یہ تاثر نہ لے کہ ہوم اسکولنگ کوئی پرفیکٹ سسٹم ہے. اسکول سسٹم کی طرح اس میں بھی خامیاں اور خوبیاں ہو سکتی ہیں. ہمیں اس مضمون کے رد عمل میں بیشمار آرأ موصول ہوئیں. جن میں بیشتر نے اس سسٹم کو سراہا مگر اسکے خلاف دلا ئل دینے والوں کی بھی کمی نہیں تھے. لوگوں نے ہوم اسکولنگ کو پسند کرنے کے باوجود کچھ ایسی رکاوٹوں کا بھی تذکرہ کیا جو اسے اپنانے میں مانع ہوتی ہیں. کچھ لوگوں نے اس موضوع پر مزید رہنمائی اور تجویز کی بھی فرمائش کی.

ہوم اسکولنگ خواہش کے باوجود نہ اپنانے میں جو چیزیں مانع ہو سکتی ہیں انمیں دونوں والدین کا ورکنگ ہونا،  جوانٹ فیملی میں رہنے کی وجہ سے پڑھائی کا ماحول نہ ہونا یا باپ کی ملازمت کی نوعیت ایسی ہونا کے ماں کی ذمہ داریاں بڑھ جائیں اور وہ بچوں کی تعلیم کے لئے ٹائم نہ نکل سکے سر فہرست ہے. دیہاتوں اور کچی آبادیوں میں والدین کا اپنا پڑھا لکھا نہ ہونا بھی ظاہر بھی اسے نا قابل عمل بناتا ہے. والدین اپنے حالات کو دیکھتے ہوے خود ہی بہترین فیصلہ کر سکتے ہیں..

کم آمدنی والے گھرانوں میں گھروں کا چھوٹا ہونا اور کھیل کود اور تفریح کے ذرائع موجود نہ ہونا یا گلی محلے کی خراب صحبت سے بچانے کے لئے یا سماجی رابطے کے لئے بھی ماں باپ کو بچوں کو چھوٹی عمر میں اسکول بھیجنے پر مجبور کر سکتا ہے. یہ صحیح ہے کے سکول میں بچے اساتذہ کی مسلسل نگرانی میں ہوتے ہیں مگر وہاں بھی ہر طرح کے بچے موجود ہتے ہیں.اسکول یقیناً  بچے کے لئے سوشل انٹریکشن کا ذ ریعہ ہوتے ہیں مگر کیا سماجی رابطے ہمیشہ فائدے مند ثابت ہوتے ہیں؟

کچھ لوگوں نے پڑھانے کی ٹریننگ نہ ہونے کو بھی ہوم اسکولنگ میں مانع قرار دیا ہے. ہم سمجھتے ہیں اگر توجہ اور اہمیت کا احساس ہو تو لاتعداد ذرائع سیکھنے کے موجود ہیں. بڑے  شہروں میں ایسی مختصر ورکشا پس کا انعقاد ہوتا رہتا جسے اتٹنڈ کر کہ والدین اس موضوع پر اپنی اپ گریڈنگ کر سکتے ہیں. اسکے علاوہ نیٹ پر ہزاروں سائٹس ایسی موجود ہیں جو ٹیچنگ کی تربیت اور ہوم اسکولنگ سے متعلقہ وسائل مسلسل شئیر کرتی ہیں. ان میں بیشتر کوئی فیس نہیں لیتیں. مگر یہ بھی ذھن میں رہی کہ ہم میں سے کتنے لوگ پاکستان میں بچوں کو ایسے سکولوں میں بھیج سکتے ہیں جہاں ٹرینڈ ٹیچرس ہوتی ہیں؟ اور اگر ہوتی ہیں تو انکا تناسب غیر تربیت یافتہ ٹیچرس کے مقابلے میں کتنا ہوتا ہے؟ تربیت کی اہمیت سے انکار نہیں مگر ہم پھر کہیں گے کہ ایک ٹرینڈ ٹیچر کے مقابلے میں غیر تربیت یافتہ والدین زیادہ بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں.  بچوں کو پابند کرنے کے لئے گھر میں ٹیوٹر رکھا جا سکتا ہے. پڑھانے کی زمہ داری آپکی مگر بٹھا کر کام کروانے کی ٹیوٹر کی.  مشکل مضامین کے لئے بھی ٹیوٹر رکھا جا سکتا ہے. 

  

ایک دلچسپ چیز جسکی نشاندھی کی گئی وہ یہ کہ بعض والدین سوشل دباؤ کی وجہ سے ہوم اسکولنگ سے گھبراتے ہیں کے لوگ کیا کہیں گے. کبھی کبھی محض دکھاوے کی وجہ کی وجہ سے بڑے اور معیاری کہلانے والے اسکول کا انتخاب کیا جاتا ہے کہ چار لوگوں میں عزت بنی رہی. کیا پڑھے لکھے  والدین کو محض بھیڑ چال میں آ کر اپنے بچوں کے مستقبل سے متعلق اتنے اہم فیصلے کرنے چاہیں؟ اسکا فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں.

لیکن بڑے شہروں میں رہنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہوم اسکولنگ اب ایک معروف طریق کار ہے اور اونچے طبقات اور متوسط طبقات میں بھی کچھ والدین اسے اپنا رہی ہیں لیکن اسکے لئے ہمّت کی ضرورت ہوتی ہے. ہوم اسکولنگ کروانے والے والدین کے لئے سوشل میڈیا پر لاتعداد کلب موجود ہیں جہاں وہ اپنے مسائل اور وسائل ایک دوسرے سے شیر کرتے ہیں اورباقاعدہ ایسے پروگرام؟ meetup  بھی رکھتے ہیں جنمیں بچوں کو سوشل انٹریکشن کے مواقعوں کے علاوہ گروپ پروجیکٹس کے ذریعہ کوآپریٹیو لرننگ کے مواقع بھی فراہم کے جاتے ہیں. جیسے جیسے ہوم اسکولنگ کے بارے میں شعور میں اضافہ ہو گا اور لوگ اسے اپنانا شروع کریں گے چھوٹے شہروں میں بھی ایسے گروپس سوشل میڈیا پر وجود میں آئیں گے. فی الوقت وہ شہر جہاں یہ سہولت موجود نہ ہو انٹرنیٹ پر موجود گروپس سے رابطے میں رہ سکتے ہیں.  

ہوم اسکولنگ کے لئے کچھ ٹارگٹ  متعین کرنے کی ضرورت ہے چاہے وہ خود پڑھا کر حاصل  کریں یا ٹیوٹر کی مدد سے. ابتدائی سالوں میں اپنے ارد گرد کے ماحول، ریاضی کی بنیادی تعلیم کے ساتھ زبان (اردو اور انگریزی دونوں) پر گرفت مضبوط کرنی چاہےاگر یہ گھر پر مجموئی طور پر والدین یا ٹیوٹر  کے ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے تو ہوم اسکولنگ کے بارے میں سوچنے میں کوئی حرج نہیں. واضح رہی انٹرنیٹ کا صحیح استعمال آپکی بہت مدد کرے گا مگر ابتدائی سالوں میں اسکے بغیر بھی اچھے نتائج ممکن ہیں. اسکا غلط استعمال آپکی محنت کو برباد کر سکتا ہے.

انٹرنیٹ پر بیشمار تعلیمی وسائل والدین اور بچوں کے لئے موجود ہیں مگر شرط انکا صحیح استعمال ہے. مثلاً وڈیو سائٹس پر انگریزی سکھانے والی لاتعداد وڈیوز موجود ہیں جن سے والدین خود اور بچوں کی بول چل پریکٹس بہتر ہو سکتی ہے. ریاضی کے لئے ایک امریکی مسلمان سلمان خان کی ویب سائٹ کو دنیا بھر میں گریڈ زیرو سے لیکر پی ایچ ڈی لیول تک کے طلبہ استعمال کر رہی ہیں. یہاں تک کے کینیڈا امریکا کے پبلک اسکول کے ٹیچرس بھی استعداد بڑھانے کے لئے انہیں تجویز کرتے ہیں. اسی سائٹ پر تاریخ اور دوسری سائنسی  مضامین سے مطلق بہ مواد موجود ہے. 

مگر ایک بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ غیر ملکی وڈیوز کو استعمال کرنے سے پہلے بچے کے ذھن میں یہ  ضرور واضح کریں کہ دنیا میں ہر عقیدے اور ثقافت کے لوگ رہتے ہیں. سب کا احترام ہم پر لازم ہے. کسی دوسری قوم سے اچھی باتیں سیکھنے میں کوئی خرابی نہیں مگر ہماری اپنی ایک مذہبی اور ثقافتی شناخت ہے اور اسے ہم سے جدا نہیں ہونا چاہیے. بچے کو اپنی شناخت پر فخر کرنا ضرور سکھائے ورنہ وہ ہمیشہ کنفیوز رہی گا اور زندگی میں کچھ نہیں کر سکے گا. اور اگر آپ اسے شناخت اور بنیادی اخلاقیات دینے میں کامیاب ہو گئے تو آپ کا کم بہت آسان ہو گیا.

ہمارے نزدیک سب سے زیادہ اہم چیز بچے میں مطالعہ کا شوق پروان چڑھانا ہے. چاہے بچہ اسکول میں پڑھے یا نہیں.اگر ایک دفعہ مطالعہ کا شوق بچے کو ہو گیا اور اسے آپ نے اسکی ذہنی سطح کے مطابق مناسب لٹریچر اسکے گرد مھییا کر دیا تو وہ آپکی توقع سے زیادہ تیزی سے نئی باتیں  سیکھے گا. مطالعہ  کے شوق کے لئے ٹی وی اور کارٹونز کو اسکی زندگی میں کم سے کم رکھیں. کمپوٹر کا استعمال رکھیں مگر اس پر ایجوکیشنل گیمز کی عادت ڈالیں. آج سے دس سال قبل بڑے پیمانے پر کراچی میں ایسی کمپوٹر سی ڈیز دستیاب تھیں جنمیں animation  کے ذریعہ بچوں کی ذہنی استعداد بڑھنے کے لئے مختلف سرگرمیاں تھیں. اب شاید انٹرنیٹ پر اس سے دس گناہ زیادہ وسائل ہوں. 

چھوٹی عمر سے ہی قرآن کی سورتیں جتنی ہو سکیں حفظ کروائیں. حافظہ حفظ کرنے سے تیز ہوتا ہے. اسکے لئے بھی انٹرنیٹ سے مدد لی جا سکتی ہے. الہدیٰ ڈاٹ کام (alhuda.com )  پر قران کی تجوید کے سبق جو بچے کو تکرار کے ساتھ قرآن پڑھاتے ہیں جسمیں بچہ  بھی گروپ کے ساتھ دہرا سکتا ہے فری موجود ہیں. اسکے علاوہ قرآن Quranexplorer.com پر دنیا کے بہترین قاریوں کی تلاوت کچھ اس طرح موجود ہے کہ آپ ایک آیت سے لیکر پوری سوره کو جتنی مرتبہ دہرانا چاہیں مختلف آپشنز کی سیٹنگ کر سکتے ہیں.

ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کو ایک سے زیادہ زبانیں سکھانے پر بہت زور دیا جاتا ہے کے اس سے ذہنی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے مگر مادری زبان کی قیمت پر نہیں. بچے سے اپنی مادری زبان میں بات کریں. یہ اپکا اثاثہ ہے اسے انگریزی کی بھیر چال میں ضائع نہ کریں. مگرانگریزی زبان بھی ضرور سکھائیں. اس زبان کے ذریعہ اپکا بچہ دنیا کے تمام علوم  اور لٹریچر تک رسائی حاصل کر سکتا ہے. خود بھی اس زبان میں سہوری طور پر اپنی استعداد بڑھانے کی کوشش کریں. اس غرض کے لئے کسی اچھے رسالے اور اخبار کا پابندی سے مطالعہ کریں.

اقبال کی شاعری سے اور اردو زبان سے اپنے بچوں کو ضرور متعارف کروائیں. پورا کلام اور الگ الگ کتب مثلاً بانگ درا پاکستان میں ہر جگہ دستیاب ہے. بانگ درا میں بچوں کے لئے نظموں کا بہت اچھا کلیکشن ہے جس میں بچوں کے تخیل کو بھی جلا ملتی ہے. مگر اسے منی کے ساتھ سمجھانے کی ضرورت ہے. اردو بازار کراچی سے کلام اقبال شرح سمیت بھی مل جاتا ہے. جس میں مشکل الفاظ کے معنی  فوٹ نوٹس میں دے ہوئے ہیں. 

Image | Posted on by | Leave a comment

تاریخی فکشن: ادب کی صنف یا دشمن کو بدنام کرنے کا ہتھیار version 1

 

 

تاریخی فکشن: ادب کی صنف یا دشمن کو بدنام کرنے کا ہتھیار  version 1

تاریخ عموما لوگوں کے لئے خشک مضمون ہوتا ہے لیکن اگر اسے فکشن یا  فلم  کی صورت متعارف کروایا جائے تو یہ عام آدمی کے لئے دلچسپی کا باعث ہو جاتا ہے. اسی حوالے سے فی الوقت ادب  کی ایک صنف دنیا میں بہت مقبول ہے جسے ہسٹوریکل  فکشن کہا جاتا ہے. اس میں حقیقی تاریخی واقعا ت، مقامات اور کرداروں کو لیکر پلاٹ میں غیر حقیقی واقعات اور کرداروں کا اضافہ کر کے، ماضی کے واقعات، ثقافت اور سماجی زندگی کو دلچسپ انداز میں پیش کیا جاتا ہے. ناول یا مختصر افسانے سے لیکر فلم، تھیٹر یا ڈرامے تک میں فی الوقت اسکا استعمال بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے.  


ہسٹوریکل فکشن کی ایک دلچسپ مثال انارکلی نامی کردار  پر مبنی تاریخی افسانہ ہے جسکا تاریخ میں کوئی وجود نہیں تھا. یہ  ایک انگریز ولیم فنچ کے ذہن کی اختراع تھی جسے عبدالحلیم شرر نے داستان کی شکل دی. یہ یاد رہے کہ شرر نے کتاب کے دیباچے میں واضح طور پر اسے افسانہ یعنی فکشن کہا ہے. بعد ازاں ١٩٢٢ میں امتیاز علی تاج نے اسے ڈرامے کی شکل دی اور بالی ووڈ نے اسے متعدد مرتبہ سلور سکرین کے لئے اپنایا. دلیپ کمار اور مدھو بالا کی مغل اعظم اس موضوع پر مقبول ترین فلم ثابت ہوئی. یہ تاریخی فکشن کی طاقت ہے کہ  انارکلی نامی یہ قطعی افسانوی کردار برصغیر پاک و ہند میں اکبر اور جہانگیر کی پہچان بن گیا. 

اسی طرح بہت سے لوگوں کو یہ سن کرحیرت ہو گی کہ  مغل ریکارڈز کے مطابق اکبر کی ٣٤ بیویوں میں کسی کا نام جودھا بائی نہیں تھا. انارکلی کی طرح یہ نام بھی ایک انگریز کرنل ٹوڈ نے اپنی کتاب Annals and Antiquity of Rajhistan میں ایجاد کیا. یہ واضح رہے، کرنل ٹوڈ  کوئی تاریخ دان نہیں تھا. اکبر کی تین تاریخوں  ابوا لفضل کی اکبر نامہ،   بدایونی  کی منتخب التواریخ  اور نظامدین احمد کی طبقات اکبری  میں کہیں بھی جودھا کا ذکر نہیں. مگر جودھا اکبر نامی فلم کی کامیابی کے بعد کس کو اس بات کا یقین  آئے گا؟

جہانگیر کی ماں ایک راجپوت راجکماری ضرور تھی مگر اسکا اصل نام ہیرکنورتھا اور شادی کے بعد مریم  زمانی بیگم. لاہور کے اندرون  شہر میں اس نے ایک مسجد بھی بنوائی جو آج بھی موجود ہے. مغل ریکارڈز میں یہ بات بھی مذکور ہے کے ایک دفعہ مریم زمانی نے حاجیوں اور تحائف سے بھرا ایک جہاز مکہ بھجوایا جسے  پرتگالیوں نے لوٹ لیا اور جہانگیر انکے خلاف فوج کشی کے لئے نکلا اور اس نے گوا کے قریب دمن نامی شہر پر قبضے کے علاوہ کچھ پرتگالی کلیساؤں کو بھی ڈھانے کا حکم دیا. 

آج کے انتہا پسند بھارت میں جودھا کو اکبر کی سیکولر پالسیز کی سرپرست قرار دے کر تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی  ہے. مزے کی بات یہ ہے کے تاریخی فکشن کے ذریعہ یہ لڑائی آدھی  سے زیادہ جیتی جا چکی ہے. 

ہمارے یہاں آغا حشر کاشمیری سے لیکر امتیاز علی تاج اور قرأ ت العین حیدر سے لے کر نسیم حجازی تک بہت سے لکھاریوں نے اس میدان میں بہت کامیاب طبع آزمائی کی. الیاس سیتاپوری اس صنف پر سسپینس ڈایجسٹ میں مسلسل کئی سال لکھتے رہے مگر انکے کام کو ڈایجیسٹیزم  یا پلپ فکشن سمجھ کر نظر انداز کیا گیا. 

ہم قارئین کو یاد دلا دیں  کے نسیم حجازی کے ہر ناول میں تاریخی کرداروں کے علاوہ ایک سائیڈ ہیرو ضرور ہوتا تھا جسکو لیکر وہ کہاںی کو آگے بڑھاتے تھے. بعض نقادوں کو  انکے پلاٹ ادبی لحا ظ سے کمزور محسوس ہو سکتے ہیں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے ایک عام پاکستانی اگر بغداد یا غرناطہ کے سقوط کے بارے میں کچھ جانتا ہے تو اس میں ان ناولوں کا بڑا کردار ہے. 

 

ہمارے بعض لبرل دانشور اقبال کی شاعری کی طرح انکے ناولوں کو بھی ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی میں اضافہ کا سبب گردانتے ہیں مگر یہ یاد رکھیے گا کے ١٩٨٠، ١٩٩٠ کے بعد ٩/١١ تک پاکستان میں صرف ایک خود کش حملہ ہوا تھا وہ بھی القائدہ کی طرف سے مصر کے سفارت خانے پر. یہ بھی حقیقت ہے کے اب تو انہیں پڑھنے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں. جس وقت انکے ڈرامے ٹی وی پر چلتے تھے اس وقت تو خود کش حملے نہیں ہوتے تھے.

اکیسویں صدی کے اوائل میں مقبول ہونے والی فلم Gladiator جسے متعدد آسکر ملے وہ تاریخ پر نہیں بلکہ تاریخی افسانے پر مبنی تھی. یہ درست ہے کے مارکوس اوریلئس نامی رومی بادشاہ کے ایک بیٹے کموڈوس کے خلاف اسکی بادشاہت کے دوران تختہ الٹنے کی کچھ ناکام سازشیں ہوئیں مگر ہیرو کے طور پر ہسپانوی سپاہ سالار کا کردار قطعی فرضی تھا اور غالباً تاریخ کے ایک دوسرے واقعہ اسپارٹا (ایک یونانی شہر) میں غلاموں کی بغاوت سے لیا گیا ہے.

فکشن کو آسمانی صحیفوں میں مرکوز واقعات کو فلمانے کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے. Gladiator ہی کے ہدایت کار رڈلے اسکاٹ کی ٢٠١٤ میں بائبل کے ایک باب پر مبنی فلم Exodus: Gods and Kings پر اس حوالے سے بہت تنقید ہوئی کہ اسکا پلاٹ متعدد مقامات پر بائبل سے انحراف کرتا ہے اور فلم مذھب بیزاری کا پرچار کرتی نظر آتی ہے. فلم کا تعلق Biblical Epic نامی صنف سے تھا. ہمارے نزدیک غیر حقیقی عناصر کے اضافے کی وجہ سے اسے ببلِکل فکشن کا نام دینا چاہیے.

یاد رہے ہسٹوریکل فکشن میں مصنف کے پاس بہت آزادی ہوتی ہے وہ اصل واقعات کے ساتھ جو چاہے اضافہ کر سکتا ہے مگر  آپ اگر تاریخی ناول یا فلم بنانے کا دعوہ کریں تو آپکو تاریخ کے ساتھ دیانتدار ہونا پڑتا ہے. ورنہ نقاد آپکے کام کو مسترد کر سکتے ہیں. Gladiator اور Exodus دونوں فلمیں تاریخی اور بائبل پر مبنی ہونے کا دعوه کرتیں تھیں اور اس طرح یہ تاریخ کے ساتھ بددیانتی کی مرتکب ہوئیں.

مگر اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ بسا اوقات فکشن اور نان فکشن یعنی افسانے اور حقیقت کی سرحدیں آپس میں مدغم ہو جاتی ہیں.اک عام  ذہن  تاریخ اور تاریخی فکشن کے اس نازک فرق کو محسوس نہیں کر پاتا اور اسے پورا سچ ماں لیتا ہے .  مغرب میں خصوصاً اس صنف کا دوسری قوموں کو بدنام کرنے بہت استحصال کیا گیا ہے. 

 
ہالی ووڈ نے اس صنف کو بہت بیدردی سے مسلمانوں اور عربوں کے خلاف استعمال کیا. CBS  نیوز کے ایک سابق مڈل ایسٹرن کنسلٹنٹ جیک شیہان نے Reel Bad Arabs کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی، جس میں انھوں نے ہالی ووڈ کی متعدد ایسی فلموں کی نشاندھی کی جس میں قصداً  غیر محسوس طریقے سے عربوں  اور مسلمانوں کو وحشی اور ظالم کے طور پر پیش کیا گیا ہے. کہنے کو یہ فلمیں ہی ہوتی ہیں مگر انکے دیرپا اثرات دیکھنے والوں کو ولن کی قوموں کے خلاف نسل پرستی پہ  ابھرتا ہے.

اس کا مظاہرہ خصوصاً American Snipper نامی آسکر ایوارڈ یافتہ فلم دیکھنے کے بعد سامنے آیا جب ٹویٹر پر عراقیوں کے خلاف نسل پرستانہ اور پر تشدد ٹویٹس کی بھر مار ہو گئ اور فلم بینوں نے اپنی نفرت کا اظہار برملا کیا کیونکہ فلم  میں عراقی بچوں اور عورتوں تک کو دہشگردوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور فلم کے آغاز میں کچھ ایسا تاثر دیا گیا تھا جیسے وہ ٩/١١ کے ذ مہ دار ہوں. جبکہ درحقیقت نیٹو بمباری کے نتیجے میں اصل مظلوم عراقی تھے نہ کے امریکی. اور ٩/١١ سے عراقیوں کے تعلق کی بات تو کبھی پینٹاگون  نے بھی نہیں کی.

یہ بھی ایک اتفاق ہے کے ایسی فلموں یا ناولوں کو آسکر سے نوازا جاتا ہے یا نیویارک ٹائمز کا بیسٹ سیلر قرار دیا جاتا ہے یا اس سے بڑھ کر اس شخصیت کو نوبل پرآئز دے دیا جاتا ہے جو مغرب کے کسی مخصوص ایجنڈے کو پورا کر رہی ہوتی ہیں.

قارئین کو یاد ہو گا پچھلے دنوں خالد حسینی کے ایک ناول “Kite Runner” کو نیویارک ٹائمز کا بیسٹ سیلر قرار دیا گیا 

بعد میں اس پر فلم بھی بنائی گئی. کہانی بظاہرایک افغان بچے کی ہے جو ١٩٧٩ کی روسی جارحیت کے بعد امریکا منتقل ہو گیا تھا مگر بہت غیر محسوس طریقے سے اس میں افغان طالبان کی تصویر کشی کی گئی ہے. ایک طرف انھیں اسلامی سزائیں دیتے ہوۓ ولن کے طور پر پیش کیا گیا. دوسری طرف ہم جنسی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کا برملا عادی دکھایا گیا. طالبان کے کردار کہ یہ دوپہلو واضح طور پر ایک دوسرے  سے متصادم ہیں. مگر ایک عام آدمی ان تضادات کو محسوس نہیں کر پاتا.

اسی طرح لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفیر کی ہلاکت پر بنائی جانے والی فلم  Thirteen Hours

میں امریکی اسپیشل فورسز کو اس بیدردی سے لیبیا کے عوام کو ہلاک کرتے ہوے دکھایا گیا ہے کہ ایک امریکی نقا د نے تبصرہ کیا کہ اسے فلم کے بجائے ویڈیو گیم ہونا چاہیے تھا اور صرف اسکرین پر ڈیتھ کاونٹ نمودار ہونے کی کمی تھی.

American Snipper، Thirteen Hour aur Kite Runner یہ تینوں بھی ایک طرح سے ہسٹوریکل فکشن کے ذیل میں ہی آتی ہیں کیونکہ روس اور امریکا کے افغانستان پر حملے کی طرح، عراق پر امریکی حملہ، اور لیبیا سے قذ افی کا سقوط بھی اب تاریخ کا ایک باب ہو گیا ہے. مسئلہ یہ ہے کہ امریکا اور نیٹو کی مشرق وسطیٰ میں فوجی کاروائی کو جائز قرار دینے کے لئے یہ فلمیں اور ناول بہت  ضروری ہیں اور انکا سلسلہ بہت عرصے سے جاری ہے.

لارنس آف عریبیا نامی فلم کے آغاز میں یہ دکھایا گیا ہے کہ ایک عرب دوسرے عرب کو محض اپنے کنویں سے پانی پینے پر گولی مار دیتا ہے. اگر عرب واقعی ایک دوسرے کو پانی کے مسئلے پر ہلاک کرنے کے عادی ہوتے تو شاید آج عرب نام کی قوم دنیا میں نہ پائی جاتی. حقیقت یہ ہے کہ لارنس کے ساتھ ساتھ بیشمار مغربی سیاحوں اور مہم جوؤں نے عربوں کی ناقابل یقین مہمان نوازی کا اعتراف کیا ہے مگر پاپولر میڈیا کبھی اس پہلو پر روشنی نہیں ڈالتا.

دوسری طرف مغربی ہیرو کو بلا جھجک عربوں کو قتل کرتے دکھایا جاتا ہے جسکی بعض اوقات پلاٹ میں بھی کوئی ضرورت نہیں ہوتی. انڈیانا جونز سیریز کی پہلی فلم میں جونز کو ایک مجمع میں ایک مقامی کو محض اس لئے گولی مارنی پڑی کہ مراکش میں شوٹنگ کے دوران انھیں اسہال کی بیماری ہو گئی تھی اور وہ زیادہ دیر تک سیٹ پر نہیں رک سکتے تھے ورنہ اصل سین میں مزید فائٹنگ تھی.  

مغربی ناظرین کی طرح ہم  بھی ان کرداروں سے لطف لیتے ہیں کیونکے افسانے کی طاقت سے جب کسی قوم یا فرد کو ایک دفعہ ولن یعنی دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دے دیا جائے تو پھر اسکے ساتھ آپ جو کرنا چاہیں کریں. ریمونڈ ڈیوس درحقیقت انھیں فلمی کرداروں کی حقیقی شکل تھا. اسی طرح پروپیگنڈے کے بعض دوسرے  ہتھیار بھی فکشن اور نان فکشن میں استعمال کئے جاتے ہیں مگر انکا تذکرہ پھر سہی. 

بعض اوقات  کسی مخصوص ایجنڈے پر کام کرنے والے مصنفین  بھی اسکا بہت غلط فائدہ اٹھاتے ہیں. سلمان رشدی نامی انڈین نژاد مصنف جس نے مغرب کی قبولیت حاصل کرنے کے لئے اس صنف کا بہت غلط استعمال کیا. Satanic Verses نامی کتاب سے پہلے بھی (جس پر ساری دنیا کے مسلمانوں نے احتجاج کیا) اس کی ایک کتاب پر اسے اندرا  گاندھی کی طرف سے لندن کی ایک عدالت میں مقدمے کا سامن کرنا پڑا. مزے کی بات یہ کے اس مقدمے کے نتیجے میں اسے Mid Night’s Children  نامی اپنی کتاب کے نئے ایڈیشن سے قابل اعتراض مواد نکا لنا پڑا مگر مسلمانوں کے احتجاج پر مغرب نے کوئی کان نہیں دھرا بلکہ الٹا اسے آزادئ اظہار رائے کا ہیرو بنا کر نوازا گیا. حیرت کی بات یہ ہےآزادئی اظہار پر قدغن قرار دینا تو دور کی بات اندرا گاندھی والے مقدمہ کا ذکر تک نہیں کیا جاتا.

حقیقت یہ ہے کہ سردست بین الاقوامی سطح پر اس اہم صنف کے اصول و ضوابط طے کرنے کی ضرورت ہے  تاکہ نسل پرست قومیں اسے دوسری قوموں اور نظریوں کو بدنام کرنے کے لئے پروپیگنڈا کے ایک ہتھیارکے طور پر استعمال نہ کر سکیں. اس صنف کے غلط استعمال کے لئے قانون سازی کی بھی ضرورت ہے تاکہ اسکا استحصال کرنے والے کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جا سکے. مغرب میں اس حوالے سے کچھ قوانین موجود ہیں (جیسا اندرا گاندھی کیس میں دیکھا گیا) مگرمسلمان اپنی کم علمی کی وجہ سے اسکا فائدہ نہیں اٹھا پاتے.

اردو ادب میں تاریخی فکشن درحقیقت کوئی نئی صنف نہیں. لیکن اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں اس صنف کو وہ مقام نہیں مل سکا جسکی یہ مستحق تھی. ضرورت اس بات کی ہے کے ہمارے ہاں بھی تخلیقی ادب اور فلم میکنگ کے ادارے قائم ہوں جہاں با صلاحیت بچوں بڑوں کو ان فنون کی تعلیم دی جائے جسکے ذریعہ نئی نسل کا ناطہ اسکی تاریخ سے جوڑا جائے. یاد رکھئے جو قوم اپنی تاریخ کو بھول جاتی ہے، تاریخ بھی اسے فراموش کر دیتی ہے.  

اور یوں تاریخ کو اپنی آنکھ سے لوگوں کو دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے.  

 

Image | Posted on by | Leave a comment

Story Idea: Nomophobia: The fear of losing your Mobile

Image | Posted on by | Leave a comment

Changing Lifestyle is shortening the life of Children World Wide.

http://www.worldobesity.org/resources/

Changing lifestyle and food habits in last few decades are responsible for crippling diseases like type 2 diabetes and high blood pressure among children.

Data revealed that infant formula, Junk food and sugary drinks are impacting negatively on children’s health around the world. Millions of children are now victims of  type 2 diabetes and high blood pressure previously seen only in adults.

According to a report by World Obesity Federation, more than 3.5 million children now have type 2 diabetes, which was once unknown in this age group. These diseases can lead to horrible complications in later life, such as amputations and blindness. The World Obesity Federation, which compiled the data, predicted that number would rise to 4.1 million by 2025.

About 13.5 million children in the world have impaired glucose tolerance, which can lead to diabetes. Around 24 million have high blood pressure and more than 33 million have the fatty liver disease as a result of obesity, which is more often associated with alcoholism and can lead to liver cancer.

Changes in our lifestyle are also responsible for this horrible scenario. For instance, in last few decades, infant formula has replaced breastfeeding in developing world due to heavy marketing by multinationals. It is the single most significant factor that contributes to obesity. Another agent for this change is fast food culture.

The experts predict that the world will miss the UN target to stop the rise of childhood obesity by 2025.

One of the highest child obesity rates are found in Egypt,  with more than a third (35.5%) of children aged five to 17 were overweight or obese in 2013 – Greece (31.4%), Saudi Arabia (30.5%), the United States (29.3%), Mexico (28.9%) and the UK (27.7%).

If the governments are serious in reversing these changes they need to improve awareness among the masses using electronic. Print and social media and school curriculums.

Image | Posted on by | Leave a comment